Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 17
اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ
اَللّٰهُ الَّذِيْٓ : اللہ وہ ذات ہے اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : جس نے نازل کی کتاب حق کے ساتھ وَالْمِيْزَانَ : اور میزان کو وَمَا يُدْرِيْكَ : اور کیا چیز بتائے تجھ کو لَعَلَّ السَّاعَةَ : شاید کہ قیامت قَرِيْبٌ : قریب ہی ہو
خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل و انصاف) کی ترازو اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو
(42:17) المیزان۔ مصدر یا اسم۔ یہ انزل کا مفعول ثانی ہے اور مفعول اول الکتاب (ای القران) ہے بمعنی ترازو۔ قتادہ، مجاہد، مقاتل نے کہا ہے میزان سے مراد عدل ہے۔ میزان یعنی ترازو انصاف اور صحیح مساوات کا آلہ ہوتا ہے اور عدل کا معنی بھی انصاف ہے۔ اس لئے عدل کو میزان کہا گیا۔ ما یدرک۔ جملہ استفہامیہ ہے ما استفہامیہ ہے ۔ بمعنی ای شیئ ؟ او، من، یدریک مضارع واحد مذکر غائب : ادراء (افعال) مصدر۔ درء اور دری مادہ ثلاثی مجرد (باب ضرب) سے آتا ہے۔ الدرایۃ اس معرفت کو کہتے ہیں جو کسی قسم کے حیلہ یا تدبیر سے حاصل کی جائے۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تجھے کون چیز سمجھائے (ای شیء یجعلک عالما) تجھے کون بتائے۔ عام طور پر اس کا ترجمہ کرتے ہیں۔ تجھے کیا خبر ؟ تجھے کیا معلوم ؟ قرآن مجید میں جہاں کہیں وما ادرک آیا ہے وہاں بعد میں اس کا بیان بھی آیا ہے۔ مثلا آیۃ ہذا میں لعل الساعۃ قریب۔ شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو۔ یا وما ادرک ما ھیۃ نار حامیۃ (101:10-11) تم کیا سمجھے کہ یہ (ھاویہ) کیا ہے ؟ (وہ) دھکتی ہوئی آگ ہے یا وما ادرک ما لیلۃ القدر ، لیلۃ القدر خیر من الف شھر (97:2-3) اور تجھے کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ دری و درایۃ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال نہیں ہوتا۔ لعل۔ حرف مشبہ بالفعل ہے شاید، ممکن ہے۔ اسم کو نصب خبر کو رفع دیتا ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 11:12 ۔ الساعۃ قریب : الساعۃ (مؤنث) مبتدا۔ قریب (مذکر) خبر۔ الساعۃ ۔ لعل کے عمل سے منصوب ہے۔ الساعۃ (مؤنث) اور قریب (مذکر) میں عدم توافق کی مندرجہ ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں۔ (1) بعض نے کہا کہ قریب کا لفظ اگرچہ مذکر ہے لیکن اس کے معنی قرب والی یعنی مؤنث مراد ہیں۔ گویا اس قائل کے نزدیک وزن فعیل مؤنث کے لئے بھی استعمال کرلیا جاتا ہے۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ ساعۃ بمعنی بعث ہے اور بعث مذکر ہے اس لئے قریب بصیغہ مذکر لایا گیا ہے۔ (3) امام کسائی کا قول ہے قریب نعت ہے اور یہ مذکر و مؤنث دونوں کی نعت کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔ ان رحمت اللّٰہ قریب من المحسنین (7:56) کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرتے والوں کے قریب ہے۔ (4) کسائی کا قول یہ بھی ہے کہ قریب کا فاعل محذوف ہے کلام یوں ہے :۔ لعل الساعۃ اتیانھا قریب۔ جب کہ ھا ضمیر الساعۃ کی طرف راجع ہے شاید قیامت کا آنا قریب ہے۔
Top