Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 22
تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ
تَرَى الظّٰلِمِيْنَ : تم دیکھو گے ظالموں کو مُشْفِقِيْنَ : ڈر رہے ہو گے مِمَّا : اس سے جو كَسَبُوْا : انہوں نے کمائی کی وَهُوَ : اور وہ وَاقِعٌۢ بِهِمْ : واقع ہونے والا ہے ان پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے فِيْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ : جنتوں کے باغوں میں ہوں گے لَهُمْ : ان کے لیے مَّا يَشَآءُوْنَ : جو وہ چاہیں گے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے پاس ہوگا ذٰلِكَ : یہی هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ : وہ فضل ہے بڑا
تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑ کر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا یہی بڑا فضل ہے
(42:22) مشفقین : اسم فاعل جمع مذکر ڈرنے والے (ملاحظہ ہو آیت 18 متذکرۃ الصدر۔ تری کا مفعول ثانی ہے۔ مما کسبوا۔ مما۔ من اور ما سے مرکب ہے۔ ما موصولہ کسبوا صلہ ہے اپنے موصول کا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے کسب (باب ضرب) مصدر۔ جو انہوں نے کھایا۔ (جو کام شرک و معاصی کے انہوں نے کئے ہوں گے) ۔ وھو واقع بھم۔ جملہ حالیہ ہے ھو کی ضمیر ماکسبوا کی طرف راجع ہے حال یہ کہ وہ ان پر پڑ کر ہی رہیگا۔ یعنی ان کے کئے کا وبال۔ روضت الجنت : مضاف مضاف الیہ۔ جنتوں کے باغات۔ الروض اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں کہ جہاں پانی جمع ہو اور سبزہ بھی ہو۔ باغ۔ مایشاء ون : جو وہ چاہیں گے۔ ما موصولہ ۔ یشاء ون مضارع جمع مذکر غائب مشیۃ (باب فتح) مصدر۔ ذلک : یعنی جنت کی یہ نعمت جس کا ذکر کیا گیا۔
Top