Tadabbur-e-Quran - Ash-Shura : 22
تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ
تَرَى الظّٰلِمِيْنَ : تم دیکھو گے ظالموں کو مُشْفِقِيْنَ : ڈر رہے ہو گے مِمَّا : اس سے جو كَسَبُوْا : انہوں نے کمائی کی وَهُوَ : اور وہ وَاقِعٌۢ بِهِمْ : واقع ہونے والا ہے ان پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے فِيْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ : جنتوں کے باغوں میں ہوں گے لَهُمْ : ان کے لیے مَّا يَشَآءُوْنَ : جو وہ چاہیں گے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے پاس ہوگا ذٰلِكَ : یہی هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ : وہ فضل ہے بڑا
تم ظالموں کو اس دن دیکھو گے کہ وہ اپنی کمائی کے وبال سے لرزاں ہوں گے اور وہ ان پر پڑ کے رہے گا۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ہوں گے وہ بہشتوں کے باغیچوں میں ہوں گے۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ سب سے بڑا فضل درحققیت یہی ہے۔
تری الظلمین مشفقین مما کسبوا و ھو واقع بھم والذین امنوا و عملوا الصلحت فی روضت الجنت۔ لھم ما یشآئون عند ربھم ذلک ھو الفضل الکبیر (22) آخرت میں آدمی کو اپنے اعمال سے سابقہ پیش آئے گا یعنی آج تو یہ مشرکین اپنے مزعومہ شرکاء کے بل پر آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں سمجھتے ہیں کہ اگر آخرت ہوئی تو ان کے شرکاء ان کی مدد کریں گے، انہیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن جب قیامت آجائے گی اور یہ دیکھیں گے کہ یہاں کوئی کسی کا شریک و شفیع نہیں ہے بلکہ ہر ایک کا واسطہ اس کے اعمال سے پڑنے والا ہے تو وہ اپنے اعمال کے وبال سے لرزاں ہوں گے لیکن ان کا یہ لرزاں وترساں ہونا بالکل بےسود ہوگا۔ ان کے اعمال کا وبال لازمًا ان کے سر پر پڑے گا اور کسی تدبیر سے بھی وہ اس کو دفع نہ کرسکیں گے۔ والذین امنوا البتہ جنہوں نے دیویوں دیوتائوں پر اعتماد کرنے کے بجائے ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاری ہوگی وہ جنتوں کے باغیچوں میں براجمان ہوں گے۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ روضات الجنات میں روضات سے مراد وہ ضمنی باغیچے اور لان ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وسیع جنت میں اہل جنت کی تفریح اور سیر کے لئے بنے ہوں گے۔ روضات بھی ایک سے زیادہ ہوں گے اور جنتیں بھی ایک سے زیادہ ہوں گی اس وجہ سے دونوں جمع کی صورت میں آئے ہیں۔ ذلک ھو الفضل الکبیر اس ٹکڑے کا صحیح زور سمجھنے کے لئے اوپر آیت 20 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ وہاں فرمایا ہے کہ اس دنیا کے طالب انہی خزف ریزوں کو بہت بڑی چیز سمجھتے ہیں جو ان کے آگے ڈال دیے گئے ہیں حالانکہ اصلی فضل، جس کا لوگوں کو طالب ہونا چاہئے، یہ ہے جو اللہ یقامت کے دن اپنے باایمان بندوں پر فرمائے گا۔
Top