Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 22
تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ
تَرَى الظّٰلِمِيْنَ : تم دیکھو گے ظالموں کو مُشْفِقِيْنَ : ڈر رہے ہو گے مِمَّا : اس سے جو كَسَبُوْا : انہوں نے کمائی کی وَهُوَ : اور وہ وَاقِعٌۢ بِهِمْ : واقع ہونے والا ہے ان پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے فِيْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ : جنتوں کے باغوں میں ہوں گے لَهُمْ : ان کے لیے مَّا يَشَآءُوْنَ : جو وہ چاہیں گے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے پاس ہوگا ذٰلِكَ : یہی هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ : وہ فضل ہے بڑا
تو ظالموں کو دیکھے گا کہ اس سے ڈرنے والے ہوں گے جو انھوں نے کمایا، حالانکہ وہ ان پر آکر رہنے والا ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وہ جنتوں کے باغوں میں ہوں گے۔ ان کے لیے جو وہ چاہیں گے ان کے رب کے پاس ہوگا، یہی بہت بڑا فضل ہے۔
(1) تری الظلمین مشفقین مما کسبوا…:”الظلمین“ سے یہاں بھی وہی ظالم یعنی کافر و مشرک مراد ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے، کیونکہ اسم معروف باللام ہو کر دوبارہ آئے تو اس سے پہلا ہی مراد ہوتا ہے اور اس لئے کہ ان کے مقابلے میں ایمان اور عمل صالح والے لوگوں کا ذکر آرہا ہے، یعنی ”والذین امنوا و عملوا الصلحت …“ اس آیت میں قیامت کے دن ان مشرکین کی حلات کا نقشہ کھینچا ہے۔ عذاب سے پہلے اس کا شدید خوف بجائے خود ایک بڑا عذاب ہے، پھر ہر حال میں ان کے کفر و شرک کا وبال ان پر آکر رہنے والا ہے، خواہ ڈریں یا نہ ڈریں۔ دنیا میں کفار قیامت سے بےخوف تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے، جیسا کہ پیچھے گزرا ہے، (یستعجل بھا الذین لایومنون بھا) (الشوریٰ :18)”اسے وہ لوگ جلدی مانگتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے“ تو قیامت کے دن وہی کافر سخت خوف زدہ ہوں گے۔ ان کے برعکس ایمان والے دنیا میں قیامت سے سخت خوف زدہ رہتے تھے، جیسا کہ پہلے گزرا ہے :(والذین امنوا مشفقون منھا) (الشوریٰ :18)”اور وہ لوگ جو ایمان لائے، وہ اس (قیامت) سے ڈرنے والے ہیں“ سو اب وہ جنتوں کے باغوں میں بےخوف ہوں گے۔ (2) والذین امنوا و عملوا اصلحت فی روضت الجنت…:”روضۃ ‘ کا معنی ہے ”الموضع النزہ الکثیر ، الخصرۃ“ کہ نہایت صاف ستھری اور بہت سرسبز جگہ۔ ”روضت الجنت“ سے ظاہر ہے کہ جنتیں بھی بہت سی ہیں اور روضات بھی بہت سے ہیں۔ یعنی (ممون کسی درجے کے بھی ہوں جنت میں ہوں گے، مگر) ایمان اور عمل صالح والے جنت کے بھی پاکیزہ ترین اور سب سے سرسبز مقامات میں ہوں گے۔ جن میں سب سے علای مقام رسول کریم ﷺ کا ہوگا، جیسا کہ سمرہ بن جندب ؓ نے آپ ﷺ سے ایک طویل خواب روایت کیا ہے، جس میں ہے کہ دو فرشتوں نے پہلے آپ ﷺ کو مختلف گناہوں کے عذاب کا منظر دکھایا، اس کے بعد ان دونوں نے آپ ﷺ کو آگے چلنے کے لئے کہا، آپ ﷺ نے فرمایا :(فانطلقنا حتی انتھینا الی روضۃ خضراء فیھا شجرۃ عظیمۃ ، وفی اصلھا شیخ وصبیان واذا رجل قریب من الشجرۃ بین یدیہ نار یوقدھا فصعدا بی فی الشجرۃ واد خلانی دار لم قط احسن منھا، فیھا رجال شیوخ وشباب ، و نساء وصیبان ثم اخر جانی منھا فصعدا بی الشجرۃ فاد خلانی داراھی احسن و افضل، فیھا شیوخ و شباب، فقلت طوفتمانی اللیلۃ، فاخبرانی عما رایت ؟ قالا نعم، (فذکر الحدیث حتی قال) والشیخ فی اضل الشجرۃ ابراہیم ؑ و الصبیان حولہ فاولاد الناس، والذی یوقد النار مالک خازن النار، والدار، الاولی التی دخلت ، دار عامۃ الممنین ، واما ھذہ الدار، فدار الھشدائ، وانا جبریل و ھذا میکائیل، فارفع راسک ، فرفعت راسی ، فاذا فوقی مثل السحاب، قالا ذالک منزلک ، قلت دعانی ادخل منزلی، قالا انہ بقی لک عمر لم تستکملہ، فلواستکملت اتیت منزلک) (بخاری، الجنائر، باب ماقبل فی اولاد المشرکین :1386)”پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم ایک سرسبز روضہ (باغ) میں پہنچے جس میں ایک بہت بڑا درخت تھا، اس کی جڑ (تنے) کے پاس ایک بزرگ اور کچھ بچے تھے اور اس درخت کے قریب ایک آدمی تھا جس کے سامنے آگ تھی، جسے وہ بھڑکا رہا تھا، پھر وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھ گئے اور مجھے ایک ایسے گھر کے اندر لے گئے جس سے خوبصورت گھر میں نے نہیں دیکھا، اس میں کچھ بزرگ اور جوا ن آدمی اور عورتیں اور بچے تھے، پھر انہوں نے مجھے اس گھر سے نکالا اور مجھے لے کر اس درخت کے اور اوپر چڑھے اور ایک گھر کے اندر لے گئے جو پہلے سے زیادہ خوبصورت اور برتر تھا، اس میں کچھ بزرگ تھے اور کچھ جوان۔ میں نے کہا : ”تم دونوں نے آج رات مجھے خوب گھمایا ہے۔ اب جو کچھ میں نے دیکھا ہے مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟“ تو انہوں نے کہا :”ہاں، ٹھیک ہے (پھر انہوں نے عذاب والے مناظر کی حقیقت بتانے کے بعد کہا) اور درخت کی جڑ کے پاس جو بزرگ تھے وہ ابراہیم ؑ تھے اور ان کے اردگرد بچے لوگوں کی اولاد تھے اور جو آگ بھڑکا رہا تھا وہ آگ کا خازن مالک تھا اور پہلا گھر جس میں آپ داخل ہوئے عام ایمان والوں کا گھر تھا۔ رہا یہ گھر تو یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبریل ہوں اور یہ مکائیل ہے، اب سر اٹھاؤ !“ میں نے سر اٹھایا تو اچانک میرے اوپر بادل کی طرح کی چیز تھی۔ دونوں نے کہا :”وہ تمہارا گھر ہے۔“ میں نے کہا :”مجھے چھوڑو میں اپنے گھر جاؤں۔“ انہوں نے کہا :”آپ کی کچھ عمر باقی ہے جو آپ نے پوری نہیں کی، اگر پوری کرلو گے تو اپنے گھر میں آجاؤ گے۔“ اس حدیث سے ”روضت الجنت“ کا مفہوم بھی اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے اور یہ بھی کہ ”روضت الجنت“ میں سب سے اعلیٰ ”روضہ الجنۃ“ ہمارے نبی کریم ﷺ کے لئے خاص ہے۔ (3) ان آیات میں متعدد وجہوں سے مومنوں ک وملنے والے ثواب کی عظمت بیان کی گئی ہے، ایک یہ کہ وہ ”روضت الجنت“ میں ہوں گے۔ دوسری یہ کہ ”لھم مایشآء ون“ یعنی انھیں وہاں جو چاہیں گے ملے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انھیں حاصل ہونے والی نعمتوں کی انتہا نہیں ہوگی، کیونکہ آدمی ہر نعمت کے بعد اس سے اعلیٰ نعمت کا خواہشمند ہوتا ہے۔ تیسری ”عند ربھم“ کہ ان کی رہئاش گاہیں ان کے رب کے پڑوس میں ہوں گی۔ یہ وہ چیز ہے جس کی دعا فرعون کی بیوی نے کی تھی۔ (رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ) (التحریم : 11)”اے میرے رب ! میرے لئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا۔“ چوتھی یہ کہ انھیں عطا ہونے والی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ نے فضل کبیر قرار دیا ہے، فرمایا :(ذلک ھو الفضل الکبیر) پھر جسے اللہ تعالیٰ اکبر اور کبیر قرار دے اس کی عظمت کا کیا ٹھکانا ہوگا۔ پانچویں وجہ سے انھیں ملنے والے ثواب کی عظمت کا بیان اگلی آیت میں ہے۔ (4) ذلک ھو الفضل الکبیر : اس سے معلوم ہوا کہ جنت محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، اس پر کسی کا حق واجب نہیں۔
Top