Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ : یا ان کے لیے شُرَكٰٓؤُا : کچھ شریک ہیں شَرَعُوْا : جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا لَمْ : جس کی نہیں يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ : اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةُ : بات الْفَصْلِ : فیصلے کی لَقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ : اور بیشک ظالم لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب ہے دردناک
کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے
(42:21) ام۔ حرف عطف ہے بمعنی کیا۔ یہاں ہمزہ استفہام کے معنی میں آیا ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ایقبلون ما شرع اللّٰہ لہم من الدین ام لہم شرکاء شرعوا لہم من الدین ۔۔ الخ کیا وہ اس دین کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ یا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے جو شریک (باطل) بنا رکھے ہیں انہوں نے ان کے لئے کوئی (نیا) دین مقرر کر رکھا ہے ۔۔ (نیز ملاحظہ ہو 18:9) مالم یاذن بد اللّٰہ : ما اسم موصول ہے باقی جملہ اس کا صلہ۔ لم یاذن مضارع نفی جحد بلم۔ بمعنی ماضی منفی اذن (باب سمع) مصدر (جس کی اللہ نے) اجازت نہیں دہ ہے۔ لولا : اگر نہ ہوتا۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت 14 متذکرۃ الصدر و 6:43) کلمۃ الفصل۔ مضاف مضاف الیہ۔ فیصلے کی بات۔ قول فیصل۔ اگر (روز ازل سے ہی) فیصلے کی بات ٹھہرائی ہوئی نہ ہوتی (کہ قیامت کے آنے سے پہلے ان کو پوری سزا نہیں دی جائے گی) لولا کلمۃ الفصل جملہ شرطیہ ہے۔ لقضی بینھم۔ جواب شرط : لام جواب شرط کے لئے ہے۔ قضی ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ قضاء (باب ضرب) مصدر فیصلہ کرنا۔ بینھم۔ ای بین الکافرین والمؤمنین۔ تو کافروں اور مؤمنوں کے درمیان اختلافات کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ الظالمین ای المشرکین۔ ضمیر غائب کی جگہ اسم ظاہر (الظلمین) کی صراحت یہ بتانے کے لئے کہ وہ ظلم یعنی شرک کی وجہ سے عذاب الیم (درد ناک عذاب) کے مستحق ہیں۔ تری کا مفعول اول ہے۔
Top