Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 22
تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ
تَرَى الظّٰلِمِيْنَ : تم دیکھو گے ظالموں کو مُشْفِقِيْنَ : ڈر رہے ہو گے مِمَّا : اس سے جو كَسَبُوْا : انہوں نے کمائی کی وَهُوَ : اور وہ وَاقِعٌۢ بِهِمْ : واقع ہونے والا ہے ان پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے فِيْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ : جنتوں کے باغوں میں ہوں گے لَهُمْ : ان کے لیے مَّا يَشَآءُوْنَ : جو وہ چاہیں گے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے پاس ہوگا ذٰلِكَ : یہی هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ : وہ فضل ہے بڑا
تم دیکھو گے کہ (اس دن) یہ ظالم سہمے ہوئے ہوں گے اپنی اس کمائی کی بناء پر جو انہوں نے (زندگی بھر) کی تھی مگر وہ بہرحال ان پر آکر رہے گا اور جنہوں نے ایمان لایا ہوگا اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے وہ بہشت کے عظیم الشان باغوں میں ہوں گے اور ان کو اپنے رب کے یہاں ہر وہ چیز ملے گی جو وہ چاہیں گے یہی ہے وہ بڑا فضل
59 آخرت میں ہر کسی کا اپنے اعمال سے سابقہ : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ آخرت کے اس یوم حساب میں ہر کسی کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے سے سابقہ پیش آئے گا۔ منکرین تو اس دن اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی بنا پر اس دردناک عذاب سے سہمے ہوئے ہوں گے مگر اس نے ان پر بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے ایمان لایا ہوگا اور انہوں نے اس کے مطابق نیک کام بھی کیے ہوں گے وہ بہشت کے عظیم الشان باغوں میں ہوں گے۔ اور ان کو اپنے رب کے یہاں ہر وہ چیز ملے گی جو وہ چاہیں گے۔ سو یہی ہے وہ بڑا فضل جو کہ سب سے بڑا، اصل اور حقیقی فضل اور انعام و احسان ہے۔ جو کہ ہر لحاظ سے کامل و مکمل اور ابدی و سدا بہار ہے نہ کہ دنیائے دوں کے وہ عارضی فائدے اور مادی منافع و لذتیں جس کے لئے ابنائے دنیا مرتے اور جیتے ہیں۔ کہ وہ سب ناقص، فانی، زائل اور وقتی ہیں۔ پس عقل مند کا کام یہ ہے کہ وہ آخرت کے اس فضل کبیر اور انعام عظیم کو اصل مقصد حیات بنائے نہ کہ دنیائے دوں کے وقتی فائدوں اور عارضی لذتوں کو ۔ { لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ } ۔ { وَفِیْ ذَالِکَ فَلْیِتَنَافِسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ } ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا التَوفِیقَ وَالسَّدَاد والاسْتِقَامَۃَ والثَّبات علی ما ترید ومَا فیہ فَوْزُنَا وَفَلَاحُنَا ۔ اٰمِیْنَ یارَبَّ الْعَالٰمِیْنَ ۔ اور اس فضل کبیر سے سرفرازی کا طریقہ اور اس کا وسیلہ و ذریعہ ایمان اور عمل صالح ہے۔ پس وہ لوگ سراسر دھوکے کا شکار اور قطعی طور پر خسارے میں مبتلا ہیں جو ایمان اور عمل صالح کی اس راہ کو چھوڑ کر شرکاء اور خودساختہ دیویوں، دیوتاؤں اور فرضی " سرکاروں " اور ہستیوں کے بل پر آخرت سے نچنت اور بےفکر بیٹھے ہیں کہ اگر آخرت ہوئی تو انکے یہ شرکاء اور خودساختہ ہستیاں اور سرکاریں انکے لیے کافی ہیں۔ اور یہ ان کی مدد کریں گے۔ لہذا انکو اس کیلئے پریشان اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن کل جب قیامت آجائے گی تو یہ لوگ خود دیکھ لیں گے کہ وہاں ان کا کوئی ایسا شریک اور شفیع نہیں ہوگا جو انکے کچھ کام آسکے۔ بلکہ ہر ایک کا واسطہ اس کے اپنے اعمال سے پڑنے والا ہے اور اپنے اعمال کے وبال سے یہ لوگ کانپ رہے ہوں گے۔ مگر اسکا انکو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ ان کے اعمال کا وبال ان پر بہرحال پڑ کر رہے گا۔ اس کو ٹالنے یا اس سے بچ اور بھاگ نکلنے کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top