Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 26
قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
قُلْ : کہہ دیجئے اِنَّمَا الْعِلْمُ : بیشک علم عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس ہے وَاِنَّمَآ : اور بیشک اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا ہوں مُّبِيْنٌ : کھلم کھلا
کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنا دینے والا ہوں۔
(67:26) قل : (توکہہ دے) یعنی جب کفار یہ سوال کریں تو آپ یہ جواب دیں ۔ انما العلم عند اللہ : انما : ان حرف مشبہ بالفعل اور ما کافہ سے مرکب ہے ۔ ما کافہ حصر کے لئے آتا ہے۔ اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ بیشک ، تحقیق، سوائے اس کے نہیں۔ العلم ای علم وقت الساعۃ قیامت کے وقوع کے وقت کا علم۔ یعنی قیامت کب اور کس وقت وقوع پذیر ہوگی اس کا ٹھیک ٹھیک علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ نذیر مبین : مرکب توصیفی ہے، واضح طور پر ڈرانے والا۔ خبردار کرنے والا۔
Top