Tafheem-ul-Quran - Al-Mulk : 26
قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
قُلْ : کہہ دیجئے اِنَّمَا الْعِلْمُ : بیشک علم عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس ہے وَاِنَّمَآ : اور بیشک اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا ہوں مُّبِيْنٌ : کھلم کھلا
کہو”اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں۔“ 36
سورة الْمُلْک 36 یعنی یہ تو مجھے معلوم ہے کہ وہ ضرور آئے گی، اور لوگوں کو اس کی آمد سے پہلے خبردار کردینے کے لیے یہی جاننا کافی ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ کب آئے گی، تو اس کا علم اللہ کو ہے، مجھے نہیں ہے، اور خبردار کرنے کے لیے اس علم کی کوئی حاجت نہیں۔ اس معاملہ کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ بات کہ کون شخص کب مرے گا، اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ یہ ہمیں معلوم ہے کہ ہر شخص کو ایک دن مرنا ہے۔ ہمارا یہ علم اس بات کے لیے کافی ہے کہ ہم اپنے کسی غیر محتاط دوست کو یہ تنبیہ کریں کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے مفاد کی حفاظت کا انتظام کرلے۔ اس تنبیہ کے لیے یہ جاننا ضروری نہیں ہے کہ وہ کس روز مرے گا۔
Top