Tafseer-e-Usmani - Al-Mulk : 26
فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ
فَلَمَّا : پھر جب رَاَوْهُ : وہ دیکھ لیں گے اس کو زُلْفَةً : نزدیک سِيْٓئَتْ : بگڑ جائیں گے وُجُوْهُ الَّذِيْنَ : چہرے ان لوگوں کے كَفَرُوْا : جنہوں نے کفر کیا وَقِيْلَ : اور کہہ دیاجائے گا هٰذَا الَّذِيْ : یہ ہے وہ چیز كُنْتُمْ : تھے تم بِهٖ : ساتھ اس کے تَدَّعُوْنَ : تم تقاضا کرتے
تو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے۔
(67:27) فلما راوہ :ترتیب کا ہے۔ پھر ، لما : یہاں بطور کلمہ ظرف مستعمل ہے اور شرط کے لئے آیا ہے۔ بمعنی جب۔ راوہ : ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے اور ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الوعد (آیت 25 میں مذکور ہے) الوعد سے مراد روز حشر، وقت وقوع حشر، حشر کے دن کا عذاب۔ زلفۃ : ای قریبا منہم۔ اپنے قریب ہی ، اپنے پاس ہی ، یہ راوہ میں ہ ضمیر مفعول سے حال ہے۔ پھر جب وہ اسے اپنے قریب ہی پائیں گے یاد یکھیں گے۔ فلما راوہ زلفۃ جملہ شرط ہے۔ سیئت وجوہ الذین کفروا : جواب شرط۔ سیئت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب سوء (باب نصر) مصدر۔ بمعنی غمگین کرنا۔ برا سلوک کرنا۔ س و ء مادہ سے باب افعال سے اساء یسی اساء ۃ خراب کرنا ، بگاڑنا۔ وجوہ مفعول مالم یسم فاعلہ۔ مضاف، الذین کفروا سلہ و موصول مل کر مضاف الیہ کافر لوگوں کے چہرے۔ سیئت وجوہ الذین کفروا : ای اساء ھا اللہ فتغیرت بالاسواد و الکابۃ والحزن (ایسر التفاسیر) اللہ تعالیٰ ان کے چہرے بگاڑ دے گا اور وہ حشر کے روز متواتر تاریکی میں ٹھوکریں کھانے اور افتاں وخیزاں چلنے سے بگڑ جائیں گے (افمن یمشی مکبا علی وجہہ اھدی ۔۔ کی طرف اشارہ ہے) ۔ اکثر مفسرین نے اس کا ترجمہ صیغہ ماضی معروف میں کیا ہے۔ کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے وقیل : ای وقیل لہم اور (ان کافروں سے) کہا جائے گا۔ قیل کا عطف سیئت پر ہے ھذا کا اشارہ عذاب آخرت کی طرف ہے۔ کنتم بہ تدعون : کنتم تدعون ماضی استمراری جمع مذکر غائب ادعاء افتعال مصدر۔ تم دعا کیا کرتے تھے، تم آرزو کیا کرتے تھے۔ تم مانگا کرتے تھے۔
Top