Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 26
قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
قُلْ : کہہ دیجئے اِنَّمَا الْعِلْمُ : بیشک علم عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس ہے وَاِنَّمَآ : اور بیشک اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا ہوں مُّبِيْنٌ : کھلم کھلا
کہہ دو اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنانے دینے والا ہوں
قل . کلام سابق سے ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ جب کافر قیامت کا وقت پوچھتے ہیں تو ان کے جواب میں ہم کیا کہیں ؟ اس سوال کا جواب بتانے کے لیے فرمایا کہ تم ان سے کہہ دو ۔ انما العلم عند اللہ . کہ قیامت کے وقت کا (معین ٹھیک ٹھیک) علم اللہ ہی کو ہے ‘ اسکے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ وانما انا نذیر مبین . میں تو اس کے واقع ہونے کی خوفناک اطلاع دینے والا ہوں اور خوفناک اطلاع کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ خطرناک چیز مستقبل میں واقع ہوگی ‘ کب ہوگی ؟ اس کا صحیح وقت جاننے کی ضرورت خبر دینے والے کے لیے نہیں۔
Top