Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 26
قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
قُلْ : کہہ دیجئے اِنَّمَا الْعِلْمُ : بیشک علم عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس ہے وَاِنَّمَآ : اور بیشک اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا ہوں مُّبِيْنٌ : کھلم کھلا
کہو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو محض ایک خبردار کرنے والا ہوں (حقیقت امر کو) کھول کر
31 ۔ پیغمبر کا کام صرف انذار وتبشیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو میں تو محض ایک خبردار کرنے والا ہوں حقیقت امر کو کھول کر۔ تاکہ حق تمہارے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے اور تمہارے لئے کسی عذر کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے اور کل تم پر یہ نہ کہہ سکو کہ ہمیں کسی نے بتایا نہیں تھا۔ " ان تقولوا ماجاء نامن بشیر ولا نذیر (المائدہ :19) اس سے بڑھ کر نہ میری کوئی ذمہ داری ہے اور نہ کوئی علم و اختیار، رہ گئی یہ بات کہ قیامت کب آئے گی اور تم پر وہ عذاب کء آئے گا ؟ جس کے مستحق تم لوگ اپنے کفر و انکار کی بناء پر بن چکے ہو تو اس کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، میرے نہ بس میں ہے اور نہ ہی میرے علم میں، انما کے کلمہ حصر کے اعادہ و تکرار سے ان سب ہی معافی کی تاکید فرما دی گئی ہے۔ سو پیغمبر کا اصل کام لوگوں کو خبردار کردینا ہوتا ہے ان کے انجام سے۔ اس کے بعد جو لوگ پیغمبر کی دعوت کو قبول کرتے ہیں ان کے پیغمبر بشارت دیتے ہیں ان سرفرازیوں کی جو ایسے لوگوں کو ان کے ایمان و عمل کے نتیجے میں نصیب ہوں گی۔ سو پیغمبر کا اصل کام اور ان کا فرض منصبی یہی دو چیزیں ہوتی ہیں۔ یعنی انذار اور تبشیر۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ بات کہ لوگوں کو راہ حق و ہدایت پر ڈال دیا جائے یا نہ ماننے والوں کو عذاب میں مبتلا کردیا جائے وغیرہ وغیرہ تو ان میں سے کوئی بھی چیز نہ پیغمبر کے بس میں ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے اختیار میں اور نہ ہی پیغمبر ایسی کسی چیز کا کبھی دعویٰ ہی کرتے ہیں کہ ان سب کا تعلق خدائی اختیار سے ہے نہ کہ پیغمبر کے فرائض منصبی سے۔ (علیہ السلام)
Top