Ashraf-ul-Hawashi - Al-Muminoon : 66
قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ
قَدْ كَانَتْ : البتہ تھیں اٰيٰتِيْ : میری آیتیں تُتْلٰى : پڑھی جاتی تھیں عَلَيْكُمْ : تم پر فَكُنْتُمْ : تو تم تھے عَلٰٓي اَعْقَابِكُمْ : اپنی ایڑیوں کے بل تَنْكِصُوْنَ : پھرجاتے
(ایک روز وہ تھا یاد کرو جب) ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم اس (یعنی فرشتوں یا پیغمبر) سے اپنی ایڑیوں کے بل الٹے بھاگتے تھے5
5 ۔ اب یہاں پر ان کا سب سے بڑا گناہ بیان کیا ہے (ابن کثیر) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے کہ ” بہ “ کی ضمیر قرآن یا آنحضرت ﷺ کے لئے قرار دی جائے اور ” ھجر “ کے معنی بکواس کرنا اور ” سامرا “ کے معنی گپ شپ کرنے والے لوگ (جمع) لئے جائیں اور اگر ” سامرا “ کے معنی افسانہ گو (واحد) اور ” ھجر “ کے معنی چھوڑنا کئے جائیں (جیسا کہ شاہ عبد القادر (رح) نے لئے ہیں) تو ترجمہ یوں ہوگا۔ ” تو تم اس (پیغمبر) سے (یا حرم کی مج اوری پر) اکڑ کر ایک افسانہ گو کو چھوڑتے ہوئے اپنی ایڑیوں کے بل الٹے بھاگتے تھے “۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ” قریش کی عادت تھی کہ رات کے وقت خانہ کعبہ کے پاس حلقے بنا کر بیٹھتے اور قرآن اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں بیہودہ بکواس کرتے اور آپ ﷺ کو شاعر، کاہن وغیرہ کہتے۔ اس لئے جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو رات کے وقت ہر قسم کی گپ بازی سے منع فرما دیا۔ (مختصر از شوکانی و قرطبی)
Top