Tafseer-e-Baghwi - Al-Kahf : 31
وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ
وَمَنْ يُّضْلِلِ : اور جس کو بھٹکا دے۔ گمراہ کردے اللّٰهُ : اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست مِّنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ : اور تم دیکھو گے ظالموں کو لَمَّا : جب رَاَوُا الْعَذَابَ : وہ دیکھ لیں گے عذاب يَقُوْلُوْنَ : وہ کہیں گے هَلْ : کیا اِلٰى مَرَدٍّ : لوٹنے کی طرف۔ پلٹنے کی طرف مِّنْ : کوئی سَبِيْلٍ : راستہ ہے
اور جو صبر کرے اور قصور معاف کر دے تو یہ ہمت کے کام ہیں
43، ولمن صبر وغفر، اور انتقام نہیں لیا۔ ، ان ذ(رح) لک ، صبر اور تجاوزکرنا۔ ، لمن عزم الامور، حق اور احتیاط والے امور میں سے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان امور میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والے کو اس کے صبر کا ثواب دیاجائے گا تو تو ثواب میں رغبت کرنا زیادہ مکمل عزم ہے۔
Top