Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 44
وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ
وَمَنْ يُّضْلِلِ : اور جس کو بھٹکا دے۔ گمراہ کردے اللّٰهُ : اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست مِّنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ : اور تم دیکھو گے ظالموں کو لَمَّا : جب رَاَوُا الْعَذَابَ : وہ دیکھ لیں گے عذاب يَقُوْلُوْنَ : وہ کہیں گے هَلْ : کیا اِلٰى مَرَدٍّ : لوٹنے کی طرف۔ پلٹنے کی طرف مِّنْ : کوئی سَبِيْلٍ : راستہ ہے
اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی سبیل ہے ؟
44: وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ وَّ لِیٍّ مِّنْم بَعْدِہٖ (اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے تو اس کے بعد اس شخص کا کوئی کارساز نہیں) کوئی اس کو ہدایت دینے کی طاقت نہیں رکھتا اللہ تعالیٰ کے اضلال کے بعد اور کوئی اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا نہیں سکتا۔ وَتَرَی الظّٰلِمِیْنَ (اور تم ظالموں کو دیکھو گے) قیامت کے دن لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ (جبکہ وہ عذاب کو سامنے دیکھیں گے) جب عذاب سامنے نظر آجائے گا۔ اس بات کے قطعی واقع ہونے کی وجہ سے ماضی کے لفظ سے تعبیر فرمایا۔ یَقُوْلُوْنَ ھَلْ اِلٰی مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍ (اور وہ کہیں گے لوٹنے کی کوئی راہ ہے) وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کریں گے کہ ان کو ایمان لانے کیلئے دنیا میں واپس لوٹا دے۔
Top