Tafseer-e-Baghwi - Al-Anbiyaa : 101
اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ
اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : جو لوگ سَبَقَتْ : پہلے ٹھہر چکی لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَّا : ہماری (طرف) سے الْحُسْنٰٓى : بھلائی اُولٰٓئِكَ : وہ لوگ عَنْهَا : اس سے مُبْعَدُوْنَ : دور رکھے جائیں گے
جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے
تفسیر۔ 101۔ ان الذین سبقت لھم منا الحسنی، ، بعض حضرات نے کہا کہ یہاں، ان ، بمعنی ، الا، کے ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ مگر وہ جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے۔ اس سے مراد نیک بختی اور جنت میں رہنے کی خوشگوار زندگی یا اللہ کی طرف سے طاعت کی توفیق یا جنت کی بشارت ہے۔ اولئک عنھامبعدون، بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت اپنے عموم پر ہے۔ یعنی ہر وہ شخص جس کو اللہ کی طرف سے بھلائی حاصل ہو وہ نیک بخت اور اچھا درجہ پاتا ہے۔ اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد ہر وہ شخص جو اپنے معبود کی عبادت کرتا ہے اور پھر وہ اللہ سے امید بھی لگائے رکھتا ہے۔ تو اس کی عبادت کو اللہ تعالیٰ اکارت کردیتے تھے۔ یہ اس وجہ سے کہ آپ ﷺ اور سرداران قریش حطیم میں موجود تھے اور کعبہ کے اردگرد، تین سوساٹھ، بت رکھے ہوئے تھے۔ نضر بن حارث گفتگو کرنے کو آگے بڑھا ۔ رسول اللہ نے اس سے کلام کیا۔ یہاں تک کہ اس کو خاموش کردیا۔ پھر آپ نے اس کو، انکم وماتعبدون ، سے تین آیات پڑھ کرسنائیں۔ پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اتنے میں سامنے سے ابن الزبعری آگیا ولید بن مغیرہ نے اس سے رسول اللہ کی بات نقل کردی ابن الزبعری نے رسول اللہ کی طرف رخ کرکے کہا کیا آپ کہتے ہیں، انکم وماتعبدون من دون اللہ حصب جہنم، حضور نے ارشاد فرمایا ہاں ابن زبعری نے کہا، کیا یہودی عزیر (علیہ السلام) اور عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کی اور بنوملیح ملائکہ کی پوجا نہیں کرتے۔ حضور نے فرمایا نہیں بلکہ شیطانوں کی پوجا کرتے ہیں۔ اس پر آیت ، ان الذین سبقت لھم مناالحسنی، نازل ہوئی۔ اس سے مراد عزیر (علیہ السلام) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور فرشتے ہیں۔ اولئک عنھا مبعدون، ابن زبعری کے حق میں اللہ نے فرمایا، ماضربوہ لک الاجدلا بل ھم قوم خصمون، اور ایک جماعت کے نزدیک اس آیت سے مراد بت ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، وماتعبدون من دون اللہ، اگر ا اس سے مراد فرشتے یا انسان ہوتے تویوں کہتے، ومن تعبدون من دون اللہ۔
Top