Tafseer-e-Saadi - Ash-Shura : 29
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠   ۧ
وَمِنْ اٰيٰتِهٖ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہے خَلْقُ السَّمٰوٰتِ : پیدائش آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی وَمَا : اور جو بھی بَثَّ فِيْهِمَا : اس نے پھیلا دیے ان دونوں میں مِنْ دَآبَّةٍ : جانوروں میں سے ۭ وَهُوَ : اور وہ عَلٰي : پر جَمْعِهِمْ : ان کے جمع کرنے (پر) اِذَا يَشَآءُ : جب بھی وہ چاہے ۔ چاہتا ہے قَدِيْرٌ : قدرت رکھنے والا ہے
اور وہی خدا ہے کہ بندے جب بارش سے ناامید جاتے ہیں اس وقت مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت زمین سے پھسلا دیتا ہے4 اور وہی کام بنانے والا تعریف کے لائق ہے
4 یعنی مینہ برستا ہے اور زمین آباد ہوجاتی ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ لوگ سمجھ لیں کہ مینہ برسانا بھی صرف اللہ کے اختیار میں ہے اور پھر مایوسی کے بعد بارش کی خوشی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ گویا بندوں کو شکر کی دعوت ہے۔
Top