Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 29
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠   ۧ
وَمِنْ اٰيٰتِهٖ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہے خَلْقُ السَّمٰوٰتِ : پیدائش آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی وَمَا : اور جو بھی بَثَّ فِيْهِمَا : اس نے پھیلا دیے ان دونوں میں مِنْ دَآبَّةٍ : جانوروں میں سے ۭ وَهُوَ : اور وہ عَلٰي : پر جَمْعِهِمْ : ان کے جمع کرنے (پر) اِذَا يَشَآءُ : جب بھی وہ چاہے ۔ چاہتا ہے قَدِيْرٌ : قدرت رکھنے والا ہے
اور اس کی نشانیوں میں سے پیدا کرنا ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان جانداروں کا جو اسی نے دونوں جگہ پھیلا رکھے ہیں، اور وہ ان کے جمع کرلینے پر جب وہ چاہے قادر ہے،35۔
35۔ (چنانچہ قیامت کے دن سب کو دوبارہ زندہ کرکے اکٹھا کرے گا) (آیت) ” فیھما من دآبۃ “۔ سے یہ لازم نہیں آتا کہ دو جگہیں فردا فردا مراد ہوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ صرف دونوں کا مجموعہ مراد ہو۔ اور وجود حیوانات کا مستقر مانا ہے جائے تو جنت میں تو آخر حیوانات ہیں ہی۔” اور اگر (آیت) ” دآبۃ “۔ مجازا بمعنی مطلق ذی روح لیاجائے تب تو آسمان پر ملائکہ کا ذی روح ہونا ظاہر ہے “۔ (تھانوی (رح) ستاروں میں حیوانی آبادی اگر کسی دلیل قوی سے ثابت ہوجائے تو آیت کے معنی پر مزید روشنی پڑجائے گی۔
Top