Ashraf-ul-Hawashi - Ash-Shura : 29
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠   ۧ
وَمِنْ اٰيٰتِهٖ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہے خَلْقُ السَّمٰوٰتِ : پیدائش آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی وَمَا : اور جو بھی بَثَّ فِيْهِمَا : اس نے پھیلا دیے ان دونوں میں مِنْ دَآبَّةٍ : جانوروں میں سے ۭ وَهُوَ : اور وہ عَلٰي : پر جَمْعِهِمْ : ان کے جمع کرنے (پر) اِذَا يَشَآءُ : جب بھی وہ چاہے ۔ چاہتا ہے قَدِيْرٌ : قدرت رکھنے والا ہے
اور اسی کی قدرت کی نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کی پیدائش ہے اور ان دونوں میں جو جاندار پیدا کئے ہیں5 اور وہ جب چاہے گا یعنی قیامت کے دن ان کو اکٹھا کرسکتا ہے
5 مراد تمام فرشتے، انسانوں، جن اور حیوانات ہیں جو زمین کے علاوہ آسمانوں کے بھی مختلف طبقات میں پھیلے ہوئے ہیں اور سب کی زبانیں شکلیں، رنگ اور جنسیں مختلف ہیں۔ یا دابہ سے مراد وہ جانور ہیں جو زمین پر رہتے ہیں مگر ” فیھما “ لفظ تثنیہ سے تعبیر فرمادیا ہے جیسا کہ آیت ” یخرج منھما لولو المرجان “ میں منھما فرمایا ہے حالانکہ موتی صرف کھاری سمندر سے نکلتے ہیں۔
Top