Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 29
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠   ۧ
وَمِنْ اٰيٰتِهٖ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہے خَلْقُ السَّمٰوٰتِ : پیدائش آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی وَمَا : اور جو بھی بَثَّ فِيْهِمَا : اس نے پھیلا دیے ان دونوں میں مِنْ دَآبَّةٍ : جانوروں میں سے ۭ وَهُوَ : اور وہ عَلٰي : پر جَمْعِهِمْ : ان کے جمع کرنے (پر) اِذَا يَشَآءُ : جب بھی وہ چاہے ۔ چاہتا ہے قَدِيْرٌ : قدرت رکھنے والا ہے
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے
(آیت نمبر 29 ) آیات سے مراد وہ علامات ہیں جو اس کی قدرت کی دلالت کرتی ہیں من دآبۃ میں فرشتے اور انسان بھی داخل ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویخلق مالا تعلمون۔ (النحل) فراء نے کہا : یہاں مراد زمین میں پھیلائی جانے والی چیزیں ہیں نہ کہ وہ چیزیں جو آسمان میں ہیں جس طرح یہ فرمان ہے یخرج منھما اللؤ لؤ والمرجان۔ (الرحمن) یہ نمکین سمندر سے نکلتے ہیں میٹھے سمندر سے نہیں نکلتے ہیں۔ ابو علی نے کہا : اس کی تقدیر یوں ہے جو ان میں سے ایک میں پھیلائیں ‘ تو مضاف کو حذف کردیا گیا یخرج منھما یعنی من احمد ھما قیامت کے روز ان کے جمع کرنے پر قادر ہے۔
Top