Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 4
لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ
لَهٗ : اس کے لیے ہی ہے مَا فِي السَّمٰوٰتِ : جو کچھ آسمانوں میں ہے وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور جو کچھ زمین میں ہے وَهُوَ الْعَلِيُّ : اور وہ بلند ہے الْعَظِيْمُ : بہت بڑا ہے
خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے
3، پس اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، کذلک یوحی الیک ، اور ابن کثیر (رح) نے، یوحی، حاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان کی دلیل باری تعالیٰ کا قول ، اوحینا الیک ، ہے۔ ، والی الذین من قبلک ، اس قرأت پر اللہ تعالیٰ کا قول، اللہ العزیز الحکیم، فاعل کا بیان ہے۔ گویا کہ سوال کیا گیا کہ وحی کون کرتا ہے تو جواب دیا گیا اللہ العزیز الحکیم۔ اور دیگر حضرات نے، یوحی، حاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ آپ کی طرف اور ان انبیاء (علیہم السلام) کی طرف جو آپ (علیہ السلام) سے پہلے تھے۔ اللہ غالب حکمت والا۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مراد غیب کی خبریں ہیں۔
Top