Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 5
لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ
لَهٗ : اس کے لیے ہی ہے مَا فِي السَّمٰوٰتِ : جو کچھ آسمانوں میں ہے وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور جو کچھ زمین میں ہے وَهُوَ الْعَلِيُّ : اور وہ بلند ہے الْعَظِيْمُ : بہت بڑا ہے
اسی (اللہ) کا ہے جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور وہی برتر ہے، عظیم الشان ہے،2۔
2۔ تو اس کا اور کسی مخلوق کا مقابلہ ہی کیا ؟ ..... برتری اور عظمت صرف اسی کا حق ہے۔ دنیا جہان کی بڑی بڑی اونچی، ہستیاں اس کے آگے بساط ہی کیا رکھتی ہیں۔ آیت سے مقصود حق تعالیٰ کی ملکیت کاملہ اور اس کی عظمت کا اثبات ہے اور اس سے مشرکین جاہلین کے عقائد کا ابطال بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ” السموت “۔ امام رازی (رح) نے اس آیت کے تحت میں پھر ایک بار یاد دلادیا ہے کہ انسان سے اوپر کی طرف جو کچھ بھی واقع ہے سب پر اطلاق سماء ہی کا ہوتا ہے۔ کلماسماک فھم سماء (کبیر) (آیت) ” العلی “۔ حق تعالیٰ کی بلندی جہت ومکان کے لحاظ سے تو مراد ہو ہی نہیں سکتی، لامحالہ مراد یہ ہے کہ وہ ذات پاک ممکنات و مخلوقات کی مشابہت سے بالاتر ہے۔ لایجوز ان یکون المراد بکونہ علی العلو فی الجھۃ والمکان لما ثبتت الدلالۃ علی فسادہ (کبیر) وجب ان یکون المراد من العلی المتعالی من مشابھۃ الممکنات ومناسبۃ المحدثات (کبیر) (آیت) ” العظیم “۔ حق تعالیٰ کی عظمت بلحاظ جسم وجثہ تو مراد ہو ہی نہیں سکتی، لامحالہ عظمت بلحاظ قدرت و کمالات مراد ہوگی، لایجوز ان یکون المراد من العظیم العظمۃ بالجثۃ وکبر الجسم (کبیر) وجب ان یکون المراد من العظیم العظمۃ بالقدرۃ القھر بالاستعلاء و کمال الالھیۃ (کبیر)
Top