Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 4
لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ
لَهٗ : اس کے لیے ہی ہے مَا فِي السَّمٰوٰتِ : جو کچھ آسمانوں میں ہے وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور جو کچھ زمین میں ہے وَهُوَ الْعَلِيُّ : اور وہ بلند ہے الْعَظِيْمُ : بہت بڑا ہے
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے، وہ برتر اور عظیم ہے
لَـہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ۔ (الشوری : 4) (اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے، وہ برتر اور عظیم ہے۔ ) گزشتہ آیت میں مذکور صفت عزیز کی وضاحت گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ” عزیز “ کو ذکر فرمایا گیا تھا، یہ آیت کریمہ اس کی وضاحت ہے۔ یعنی وہ پروردگار اس قدر غالب اور عزت اور ہیبت والا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت اور اسی کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے۔ کوئی چیز اس کے حیطہ اقتدار سے باہر نہیں۔ وہ بڑی ہی بلند اور بڑی عظیم ہستی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس میں یہ بات بھی فرمائی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اسی ذات بلند وبالا کی عبادت اور اطاعت کی تمہیں دعوت دیتے ہیں اور تمہیں اس کی وحدانیت پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو تم تعجب سے کان کھڑے کرنے لگتے ہو کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ ایک اللہ ہی معبود، حاجت روا اور شارع ہے تو پھر ہمارے بزرگوں کا کیا بنے گا جنھیں ہم نے اللہ تعالیٰ کی کئی صفات تفویض کر رکھی ہیں اور اپنی ضروریات اور حاجات میں ہم ان کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں اور ان پر چڑھاوے چڑھاتے اور قربانیاں دیتے ہیں۔ چناچہ ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ جنھیں تم اللہ تعالیٰ کے اس نظام میں دخیل سمجھتے ہو اور تمہارا گمان یہ ہے کہ بہت سارے اختیارات ان کے پاس ہیں تو کیا وہ آسمان و زمین کے مالک ہیں یا آسمان اور زمین کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ہے یا ان کے پاس کوئی غیرمعمولی قوت ہے ؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ باقی مخلوق کی طرح وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ملک یعنی اس کی مملوک ہیں۔ تو کیا مملوک مالک کی ملکیت میں شریک ہوسکتا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اس کی کوئی بھی حیثیت تسلیم کی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ برتر اور عظیم ہے۔ اور وہ اس سے بہت بلند ہے کہ کوئی اس کا ہمسر ہو۔ تو یہ کس طرح اس کی ذات، صفات اور حقوق میں اس کے حصہ دار بن سکتے ہیں۔
Top