Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
تفسیر 50۔ ، اویزوجھم ذکرانا واناثا، اس کے لیے یہ دونوں جمع ہوجائیں ۔ پس اس کی مذکرومؤنث اولا دہوں ، ویجعل من یشاء عقیما، پس اس کی کوئی اولاد نہ ہو۔ کہا گیا ہے کہ یہ انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں ۔ ، یھب لمن یشاء اناثا، یعنی لوط (علیہ السلام) کہ ان کا کوئی بیٹا نہ تھا صرف دوبیٹیاں تھیں۔ ، ویھب لمن یشاء الذکور، یعنی ابراہیم (علیہ السلام) ان کی کوئی بیٹی نہ تھی۔ ، اویزوجھم ذکراناواناثا، یعنی محمد ﷺ کہ آپ (علیہ السلام) کے بیٹے ، بیٹیاں سب تھے۔ ، ویجعل من یشاء عقیما، یحییٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی اور یہ مثال کے طور پر ہے ورنہ آیت عام ہے تمام لوگوں کے حق میں ، انہ علیم قدیر،
Top