Tafseer-e-Baghwi - Al-Hashr : 16
كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ
كَمَثَلِ : حال جیسا الشَّيْطٰنِ : شیطان اِذْ : جب قَالَ : اس نے کہا لِلْاِنْسَانِ : انسان سے اكْفُرْ ۚ : تو کفر اختیار کر فَلَمَّا : تو جب كَفَرَ : اس نے کفر کیا قَالَ : اس نے کہا اِنِّىْ : بیشک میں بَرِيْٓءٌ : لا تعلق مِّنْكَ : تجھ سے اِنِّىْٓ : تحقیق میں اَخَافُ : ڈرتا ہوں اللّٰهَ : اللہ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ : رب تمام جہانوں کا
ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر اپنے کاموں کی سزا کا مزا چکھ چکے ہیں اور (ابھی) ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے
15 ۔” کمثل الذین من قبلھم “ یعنی یہود کی مثال ایسی ہے جو ان سے پہلے ہے۔ ” قریباً “ مشرکین مکہ کے قریب ” ذاقو اوباامرھم “ اس سے مراد بدر کے دن کا قتال ہے اور اس سے پہلے غزوہ بنی نضیر ہے۔ مجاہد (رح) اور ابن عباس (رح) کا قول ہے کہ ” کمثل الذین من قبلھم “ سے مراد بنی قینقاع ہے اور بعض نے کہا کہ بنو قریظہ کی مثال ایسی ہے جیسے بنی نضیر ” ولھم عذاب الیم “ پھر منافقین اور یہود سب کی مثال بیان کی ہے ان کو دھوکہ دینے میں۔
Top