Anwar-ul-Bayan - Al-Hashr : 16
كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ
كَمَثَلِ : حال جیسا الشَّيْطٰنِ : شیطان اِذْ : جب قَالَ : اس نے کہا لِلْاِنْسَانِ : انسان سے اكْفُرْ ۚ : تو کفر اختیار کر فَلَمَّا : تو جب كَفَرَ : اس نے کفر کیا قَالَ : اس نے کہا اِنِّىْ : بیشک میں بَرِيْٓءٌ : لا تعلق مِّنْكَ : تجھ سے اِنِّىْٓ : تحقیق میں اَخَافُ : ڈرتا ہوں اللّٰهَ : اللہ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ : رب تمام جہانوں کا
منافقوں کی مثال شیطان کی سی ہے کہ انسان سے کہتا رہا کہ کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں مجھ کو تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے
(59:16) کمثل الشیطان اس آیت میں خبر کا مبتدا محذوف ہے۔ عبارت یوں ہوگی مثلہم کمثل الشیطن : ان کی مثال شیطان کی سی مثال ہے۔ مثلھم کی ضمیر یہاں منافقون کے لئے ہے جب کہ سابقہ آیت میں یہود بنی نضیر کے لئے تھی۔ بعض نے کہا کہ ہر دو جگہ ہر دو فریق کے لئے ہے۔ اذقال ۔۔ الخ۔ شیطان کا کردار ہے جس کی مثال دی گئی ہے یعنی وہ انسان سے کہتا ہے کافر ہوجا۔ جب وہ کافر ہوگیا۔ تو کہنے لگا مجھے تجھ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ مجھے خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ اسی طرح مدینہ کے منافقین بھی یہود بنی نضیر کو رسول اللہ ﷺ کے خلاف جھوٹی باتوں کے گھمنڈ پر ابھارتے رہتے تھے۔ اور جب ان پر آپڑی تو بجائے ان کی مدد کرنے کے ان کو برا بھلا کہنے لگے۔ بری۔ بیزار، بےتعلق، بےگناہ۔ براء ۃ (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ اس کی جمع بریؤن ہے۔ اخاف اللہ رب العلمین : اخاف مضارع واحد متکلم خوف (باب سمع) مصدر۔ میں ڈرتا ہوں اللہ مفعول اخاف کا ۔ رب العلمین مضاف مضاف الیہ مل کر صفت اللہ کی۔ میں خدائے رب العلمین سے ڈرتا ہوں۔
Top