Tafseer-e-Madani - Al-Hashr : 16
كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ
كَمَثَلِ : حال جیسا الشَّيْطٰنِ : شیطان اِذْ : جب قَالَ : اس نے کہا لِلْاِنْسَانِ : انسان سے اكْفُرْ ۚ : تو کفر اختیار کر فَلَمَّا : تو جب كَفَرَ : اس نے کفر کیا قَالَ : اس نے کہا اِنِّىْ : بیشک میں بَرِيْٓءٌ : لا تعلق مِّنْكَ : تجھ سے اِنِّىْٓ : تحقیق میں اَخَافُ : ڈرتا ہوں اللّٰهَ : اللہ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ : رب تمام جہانوں کا
ان کی مثال تو شیطان کی سی ہے کہ وہ پہلے تو انسان سے کہتا ہے کہ تو کفر کر مگر جب وہ کفر کر بیٹھتا ہے تو یہ اس سے کہتا ہے کہ میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں میں تو بہر حال اللہ سے ڈرتا ہوں جو کہ پروردگار ہے سارے جہانوں کا
[ 42] حق کے دشمنوں کی مثال شیطان کی سی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کے دشمنوں اور حق کے خلاف ابھارنے والوں کی مثال شیطان کی سی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی مثال شیطان کی سی ہے۔ یعنی ان منافقین کی مثال جنہوں نے یہود و بنو نضیر کو اپنے جھوٹے وعدوں کے ذریعے حق اور اہل حق کے خلاف اکسایا ابھارا اور ان کو لڑائی پر تیار اور آمادہ کیا، ان کی مثال شیطان کی ہے، کہ وہ بھی انسان کو کفر و بغاوت پر اکساتا ابھارتا ہے، اور اس طرح وہ اس کو تباہی کے گڑھے میں ڈال کر خود اس سے الگ ہوجاتا ہے، [ خازن، صفوۃ وغیرہ ] سو ان منافقوں نے یہود، بنو نضیر کو ابھارہ کہ اگر آپ لوگوں کو نکالا گیا تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلیں گے اور اگر آپ لوگوں پر حملہ ہوا تو ہم آپکا ساتھ دیں گے، اور اس سلسلہ میں ہم کسی کا کوئی دباؤ قبول نہیں کریں گے، سو یہ لوگ شیطان کے بھائی اور اس کے پیروکاری ہیں، اور حق کے خلاف ابھارنے والوں کی مثال شیطان کی سی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا ارحم الراحمین، [ 43] شیطان کا کام عین وقت پر دھوکہ دینا۔ والعیاذ باللّٰہ : سو شیطان چکمہ دے کر انسان کو برائی پر اکساتا ابھارتا ہے۔ مگر اس سے برائی کا ارتکاب کر ادینے کے بعد وہ اس سے کہتا ہے کہ میرا تجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ جیسا کہ اس نے غزوہ بدر کے موقع پر کفار قریش سے کیا اور جیسا کہ برصیصاراہب سے کیا کہ اس سے بدکای قتل اور اپنے لئے سجدہ کرانے کے بعد اس کو یہی کہا کہ میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہی، جس کا قصہ مختلف کتب و روایات میں مذکور و مشہور ہے، سو ابلیس کی ایسی فریب کاریوں سے ہمیشہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے جس کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کی پناہ میں آنا ہے، کہ ابلیس مکار کے مکرو فریب سے وہی وحدہٗ لاشریک بچا سکتا ہے، اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے، آمین سو شیطان اور اس کے ایجنٹوں کا طریقہ کار یہی ہے کہ وہ لوگوں کو جرائم پر ابھارتے ہیں، لیکن جب نتائج سامنے آتے ہیں تو یہ ان کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو بچانے اور علیحدہ کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں ان کا طریق و ارادات کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے جس کے مختلف مظاہر اور نمونے جگہ جگہ سامنے آتے رہتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، [ 44] شیطان کی ابلیسی منطق کے ایک نمونے اور مظہر کا ذکر وبیان : سو اس سے شیطان کی ابلیسی منطق کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے کہ پہلے تو یہ اپنی پالیسی اور شیطانی منطق کے ذریعے انسان کو کفر پر ابھارتا ہے لیکن جب وہ کفر کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو اس وقت یہ اس سے منہ پھیر لیتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری اور لاتعلق ہوں۔ میرا تجھ سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ میں بہرحال ڈرتا ہوں اللہ سے جو کہ پروردگار ہے سب جہانوں کا۔ مگر اس کا یہ کہنا بھی جھوٹ اور مکروفریب ہوتا ہے، اور یہ اس کی ابلیسی چالوں میں سے ایک چال ہوتا ہے، والعیاذ باللّٰہ، ورنہ اگر وہ اپنے اس قول میں سچا ہوتا تو مطیع و فرمانبردار کیوں نہ ہوجاتا ؟ اور دجل وتلبیس کی راہ ترک کرکے سیدھی راہ پر کیوں نہ آجاتا ؟ بہرکیف یہ اسکا طریقہ واردات ہے کہ انسان کو ہلاکت کے کھڈے میں ڈال کر وہ خود الگ ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ابلیسی چالوں اور اس کے دجل و فریب کی ہر صورت سے ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین،
Top