Tafseer-e-Baghwi - Al-Mulk : 9
قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلٰي : کیوں نہیں قَدْ جَآءَنَا : تحقیق آیا ہمارے پاس نَذِيْرٌ : ڈرانے والا فَكَذَّبْنَا : تو جھٹلادیا ہم نے وَقُلْنَا : اور کہا ہم نے مَا نَزَّلَ اللّٰهُ : نہیں نازل کی اللہ نے مِنْ شَيْءٍ : کوئی چیز اِنْ اَنْتُمْ : نہیں تم اِلَّا : مگر فِيْ : میں ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ : بڑی گمراہی
گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنیولا نہیں آیا تھا ؟
8 ۔” تکاد تمیز “ پھٹ جائے۔ ” من الغیظ “ ان پر غصہ کی وجہ سے ۔ ابن قنیبہ (رح) فرماتے ہیں قریب ہے کہ کفار پر غصہ کی وجہ سے پھٹ جائے۔ ” کلما القی فیھا فوج “ ان میں سے ایک جماعت ” سالھم خزنتھا “ ڈانٹ کا سوال ” الم یاتکم نذیر “ رسول جو تمہیں ڈراتے ۔
Top