Taiseer-ul-Quran - Al-Mulk : 9
قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلٰي : کیوں نہیں قَدْ جَآءَنَا : تحقیق آیا ہمارے پاس نَذِيْرٌ : ڈرانے والا فَكَذَّبْنَا : تو جھٹلادیا ہم نے وَقُلْنَا : اور کہا ہم نے مَا نَزَّلَ اللّٰهُ : نہیں نازل کی اللہ نے مِنْ شَيْءٍ : کوئی چیز اِنْ اَنْتُمْ : نہیں تم اِلَّا : مگر فِيْ : میں ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ : بڑی گمراہی
وہ کہیں گے : کیوں نہیں، ڈرانے والا تو ہمارے پاس آیا تھا مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا : اللہ نے تو کچھ نہیں اتارا، تم ہی بڑی گمراہی میں پڑے 13 ہوئے ہو
13 یہ بڑی گمراہی کیا تھی ؟ یہی بعث بعد الموت کا عقیدہ۔ کافر اسے ہی سب سے بڑی گمراہی سمجھتے تھے۔ کہ آج تک تو کوئی شخص مر کر واپس آیا نہیں۔ پھر ہم اس بات کو کیونکر تسلیم کرسکتے ہیں ؟
Top