Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 9
قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلٰي : کیوں نہیں قَدْ جَآءَنَا : تحقیق آیا ہمارے پاس نَذِيْرٌ : ڈرانے والا فَكَذَّبْنَا : تو جھٹلادیا ہم نے وَقُلْنَا : اور کہا ہم نے مَا نَزَّلَ اللّٰهُ : نہیں نازل کی اللہ نے مِنْ شَيْءٍ : کوئی چیز اِنْ اَنْتُمْ : نہیں تم اِلَّا : مگر فِيْ : میں ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ : بڑی گمراہی
وہ کہیں گے کیوں نہیں بلاشبہ ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا پھر ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور ہم نے صاف صاف کہہ دیا کہ اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری ، تم خود ہی بڑی غلطی میں مبتلا ہو
وہ دوزخ کے دربانوں کو جواب دیں گے کہ نذیر تو آیا تھا لیکن ہم نے اس کی بات نہیں مانی تھی 9 ؎ جھوٹ بولنے کے عادی لوگوں کو بھی کبھی سچ بولنا پڑتا ہے اور وہ بولتے ہیں لیکن ایسے موقع پر سچ بولنے والوں کے متعلق کبھی کسی نے ان کے سچ کو نہیں سراہا کہ واہ بھائی انہوں نے تو کتنی سچی بات کہہ دی ہے یا کردی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ انسان ساری زندگی سچ بولتا ہے تو بعض اوقات اس کا ایک ہی جھوٹ اس کے سارے سچوں پر پانی پھیر دیتا ہے اور لوگ جھوٹ جھوٹ کا نعرہ بلند کردیتے ہیں۔ ان لوگوں کی ساری زندگی جھوٹ میں گزری ہوگی لیکن اس وقت وہ جو بات کہیں گے وہ سو فیصد سچ ہوگا اور وہ کہیں گے کہ کیوں نہیں بلاشبہ ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اس کا انتظام کیا تھا اور اس نے ہمیں بار بار باور کرانے کی پوری پوری کوشش کی تھی۔ انبیاء و رسل نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو پڑھ پڑھ کر ہم کو سنایا اور انہوں نے بھی ہمارے سمجھانے کے لئے ساری کوشش کی لیکن ہم نے ان کو جھٹلایا اور خوب جھٹلایا اور ان کے رو در رو اور برملا کہا کہ تم لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے کچھ نہیں اتارا تم جو کچھ کہہ رہے ہو سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے۔ جو تم لوگ اللہ کے لئے باندھ رہے ہو اور اس طرح کی بہت سی باتیں کہہ کر ہم نے ان کو ٹال دیا اور ان کی ایک بھی نہ مانی۔
Top