Tafseer-e-Majidi - Al-Mulk : 9
قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلٰي : کیوں نہیں قَدْ جَآءَنَا : تحقیق آیا ہمارے پاس نَذِيْرٌ : ڈرانے والا فَكَذَّبْنَا : تو جھٹلادیا ہم نے وَقُلْنَا : اور کہا ہم نے مَا نَزَّلَ اللّٰهُ : نہیں نازل کی اللہ نے مِنْ شَيْءٍ : کوئی چیز اِنْ اَنْتُمْ : نہیں تم اِلَّا : مگر فِيْ : میں ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ : بڑی گمراہی
وہ کہیں گے کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا، لیکن ہم نے اس کو جھٹلایا اور کہا کہ خداوند نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم خود ہی ایک بڑے خبط میں پڑے ہو،7۔
7۔ (کہ وحی اور ثبوت اور آخرت وغیرہ کے ڈھکوسلوں میں پڑے ہوئے ہو) (آیت) ” قالوا ...... نذیر “۔ منکرین حشر اب دوزخ میں پہنچ چکی تھی، یہ شامت تو ہماری خود ہی تھی کہ ہم ڈھٹائی کیساتھ پیغمبروں کی تکذیب کرتے اور الٹا انہیں کو خبطی قرار دیتے رہے، (آیت) ” ان .... کبیر “۔ آج ہمارے روشن خیالوں “۔ اور عقلییں کا جو فتوی اہل مذہب کے متعلق ہے، وہ کیا اس سے کچھ بہت مختلف ہے ؟
Top