Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 9
قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلٰي : کیوں نہیں قَدْ جَآءَنَا : تحقیق آیا ہمارے پاس نَذِيْرٌ : ڈرانے والا فَكَذَّبْنَا : تو جھٹلادیا ہم نے وَقُلْنَا : اور کہا ہم نے مَا نَزَّلَ اللّٰهُ : نہیں نازل کی اللہ نے مِنْ شَيْءٍ : کوئی چیز اِنْ اَنْتُمْ : نہیں تم اِلَّا : مگر فِيْ : میں ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ : بڑی گمراہی
وہ کہیں گے کیوں نہیں ضرور ہدایت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔ تم تو بڑی غلطی میں (پڑے ہوئے) ہو
قالوا بلی قد جاء نا نذیر . انہوں نے کہا : یہ مستقبل کی حکایت ہے۔ نذیر صیغۂ صفت ہے یا بمعنی جمع ہے یا مصدر ہے اس صورت میں مضاف محذوف ہوگا یعنی اہل اتدار (ڈرانے والے) یا بغیر حذف مضاف کے خود مصدر کو صفت قرار دیا جائے اور مقصود مبالغہ انذار ہو یا صیغۂ صفت بمعنی مفرد ہے (ڈرانے والا) مطلب یہ ہے کہ کافروں نے کہا : ہم میں سے ہر ایک کے پاس ڈرانے والا آیا تھا۔ قَدْ جَآءَ نَا نَذِیْرٌ میں بلٰی کے مفہوم کی تاکید ہے۔ فکذبنا . لیکن ہم نے نذیر کو جھوٹا قرار دیا اور اتنی زیادہ تکذیب کی کہ کہہ دیا وقلنا ما نزل اللہ من شیء . اللہ نے کچھ نہیں اتارا۔ اس فقرہ میں کتاب اتارنے کا بھی انکار ہے اور پیغمبر بنا کر بھیجنے کا بھی۔ ان انتم الا فی ضلال کبیر . بظاہر یہ کافروں کا کلام معلوم ہوتا ہے جس سے تکذیب کو پختہ کرنا مقصود ہے کہ تم بڑی گمراہی میں ہو اور بڑی گمراہی میں ہونا جھوٹے ہونے کی علامت ہے۔ ممکن ہے یہ کلام دوزخ کے فرشتوں کا ہو۔ یعنی فرشتوں نے کافروں سے یہ الفاظ کہے۔ اگر نذیر بمعنی واحد ہو اور انتم جمع کی ضمیر ہے تو (کلام میں توافق نہ ہوگا لیکن) اس وقت مراد انبیاء کی جماعت ہی ہوگی۔ مگر خطاب میں حاضر کو غائب پر ترجیح دی گئی یعنی اے مخاطب تو اور تیری طرح کے تمام لوگ تم سب بڑی گمراہی میں ہو یا ایک کی تکذیب کو پوری جماعت کی تکذیب کے قائم مقام قرار دیا (کیونکہ پیام سب کا ایک تھا اور ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا تھا ‘ اب ایک کو جھوٹا قرار دینا سب کو جھوٹا قرار دینا ہوا) ۔
Top