Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 9
قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلٰي : کیوں نہیں قَدْ جَآءَنَا : تحقیق آیا ہمارے پاس نَذِيْرٌ : ڈرانے والا فَكَذَّبْنَا : تو جھٹلادیا ہم نے وَقُلْنَا : اور کہا ہم نے مَا نَزَّلَ اللّٰهُ : نہیں نازل کی اللہ نے مِنْ شَيْءٍ : کوئی چیز اِنْ اَنْتُمْ : نہیں تم اِلَّا : مگر فِيْ : میں ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ : بڑی گمراہی
وہ جواب میں کہیں گے کہ ہاں خبرادر کرنے والا تو ہمارے پاس ضرور آیا تھا مگر ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے تو کچھ بھی نازل نہیں کیا تم لوگ تو خود ہی ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہو
14 منکرین کے اقرار و اعتراف جرم کا ذکر وبیان : سو اس سے منکرین کی طرف سے اقرار و اعتراف جرم کو بیان فرما دیا گیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ کہیں گے کہ ہاں نذیر تو یقینا ہمارے پاس آتے تھے ‘ مگر ہم نے ان کو جھٹلا دیا ‘ اور کہا کہ اللہ نے کچھ بھی نہیں اتارا ‘ تم لوگ تو ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہو ‘ اور یہ کہ تم محض اپنی بڑائی کیلئے اس طرح کے دعوے کرتے اور ہم پر اپنی دھونس جمانا چاہتے ہو ‘ کما قال تعالیٰ حکایۃ عن الملاء الذین کفرو۔ " یرید ان یتفضل علیکم " (المومنون :24) ۔ سو اس طرح وہ لوگ اپنے جرم کا اقرار کرلیں گے مگر اس کا ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا سوائے آتش یاس و حسرت میں اضافے کے۔ سو جن لوگوں نے آخرت کے اس یوم حساب اور یوم عظیم و رہیب سے غفلت و لاپرواہی کی زندگی گزاری۔ انہوں نے اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں کو حق کے فہم و ادراک سے بند رکھا ورنہ نہ اس دنیا میں قیامت و آخرت اور جزا و سزا کی نشانیوں کی کمی تھی اور نہ ہی یہ دنیا منذروں سے کبھی خالی رہی لیکن جن لوگوں نے اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں کو حق سے بند رکھا تھا انہوں نے ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ پس وہ اس یوم حساب میں ہرگز کسی ہمدردی کے مستحق نہ ہوں گے اور ایسے باغیوں اور سرکش منکروں کو دوزخ کی آگ دیکھتے ہی بھڑک اٹھے گی اور وہ غیظ و غضب سے پھٹی پڑ رہی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس نے ان معاندین منکرین کے عناد و ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آیا ہے کہ انہوں نے منذروں کی باتوں کو ماننے اور ان کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے الٹا ان سے کہا کہ تم لوگ تو کھلی گمراہی میں پڑے ہو کہ ہماری دنیوی ترقی کی راہوں میں رکاوٹ بنتے ہو (والعیاذ باللہ) اور ہماری اپنی آزادی اور خواہشات پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کرکے خواہ مخواہ ہم پر عرصہ حیات تنگ کرتے ہو (والعیاذ باللہ) سو ابناء دنیا کی ذہنی ساخت اور طبعی افتاد جب سے لے کر اب تک ہمیشہ یہی رہی کہ دین پر چلنا اور دینی تقاضوں کی تکمیل کرنا ‘ ان کے نزدیک دنیوی ترقی میں حارج اور مانع ہے ‘ اس لئے وہ آج بھی حضرات علماء کرام کی آواز پر لبیک کہنے کو تیار نہیں ‘ بلکہ وہ ان پر الٹا آوازے کستے ہیں کہ یہ لوگ دقیانوسی ‘ بیک ورڈ اور ہماری ترتقی میں حارج اور رکاوٹ ہیں ‘ کل بھی ان لوگوں کا یہی حال تھا ‘ اور آج بھی یہی ہے ‘ حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے کہ دین کے تقاضوں کی تکمیل اور اللہ پاک کے حضور صدق دل سے جھکنے سے نہ صرف یہ کہ دنیوی ترقی متاثر نہیں ہوتی ‘ بلکہ اس سے انسان کو اور پورے انسانی معاشرے کو برکتوں پر برکتیں نصیب ہوتی ہیں ‘ جیسا کہ نصوص قرآن و سنت میں اس امر کی جابجا اور طرح طرح سے تصریح فرمائی گئی ہے اور جیسا کہ واقعاتی شواہد نے اس کی ہمیشہ تصدیق و تائید کی اور تاریخ اس کی گواہ اور اس پر شاہد عدل ہے۔ لیکن مادہ پرستوں اور حق کے منکروں کو یہ بات نہ سمجھ آتی ہے نہ ہضم ہوتی ہے۔ وہ مادہ اور معدہ کی پوجا ہی کو اصل مقصد سمجھے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Top