Tafseer-e-Baghwi - Al-A'raaf : 78
فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ
فَاَخَذَتْهُمُ : پس انہیں آپکڑا الرَّجْفَةُ : زلزلہ فَاَصْبَحُوْا : تو رہ گئے فِيْ : میں دَارِهِمْ : اپنے گھر جٰثِمِيْنَ : اوندھے
تو ان کو بھونجال نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہے
تفسیر (78) (فاخذتھم الرجفۃ) وہ زمین کا زلزلہ اور اس کی حرکت ہے اور ان کو چیخ اور زلزلہ سے ہلاک کیا گیا۔ ” فاصبحوا فی دارھم “ بعض نے کہا ہے مراد الدیار ہیں اور بعض نے کہا ہے ان کی سرزمین اور بستی مراد ہے۔ اس لئے دار کو واحد ذکر کیا ہے۔ اگر مکان یا گھر مراد ہوتا تو اس صورت میں یہ جمع کا صیغہ وہتا۔” جاثمین “ مردہ اوندھے پڑے ہوئے۔ بعض نے کہا ہے اوندھے منہ مردہ پڑے تھے۔ پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھر میں اوندھے پڑے)
Top