Tafseer-e-Usmani - Al-Anbiyaa : 90
رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠   ۧ
رَبِّ اغْفِرْ لِيْ : اے میرے رب بخش دے مجھ کو وَلِوَالِدَيَّ : اور میرے والدین کو وَلِمَنْ : اور واسطے اس کے دَخَلَ : جو داخل ہو بَيْتِيَ : میرے گھر میں مُؤْمِنًا : ایمان لا کر وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ : اور مومنوں کو وَالْمُؤْمِنٰتِ : اور مومن عورتوں کو وَلَا : اور نہ تَزِدِ : تو اضافہ کر الظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کو اِلَّا تَبَارًا : مگر ہلاکت میں
پھر ہم نے سن لی اس کی دعا اور بخشا اس کو یحییٰ اور اچھا کردیا اس کی عورت کو4 وہ لوگ دوڑتے تھے بھلائیوں پر اور پکارتے تھے ہم کو توقع سے اور ڈر سے اور تھے ہمارے آگے عاجز5
4 یعنی بانجھ عورت کو ولادت کے قابل کردیا۔ 5 بعض متصوفین کہا کرتے ہیں کہ جو کوئی اللہ کو پکارے توقع سے یا ڈر سے وہ اصلی محب نہیں۔ یہاں سے ان کی غلطی ظاہر ہوئی۔ انبیاء سے بڑھ کر خدا کا محب کون ہوسکتا ہے۔
Top