Baseerat-e-Quran - An-Nahl : 27
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا : اور تحقیق ہم نے عطا کی مُوْسَى : موسیٰ الْكِتٰبَ : کتاب (توریت مِنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد مَآ اَهْلَكْنَا : کہ ہلاک کیں ہم نے الْقُرُوْنَ : امتیں الْاُوْلٰى : پہلی بَصَآئِرَ : (جمع) بصیرت لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے وَهُدًى : اور ہدایت وَّرَحْمَةً : اور رحمت لَّعَلَّهُمْ : تاکہ وہ يَتَذَكَّرُوْنَ : نصیحت پکڑیں
بیشک ہم نے پہلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (توریت) عطا کی جس میں بصیرت ‘ ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
لغات القرآن : آیت نمبر 43 تا 50 : القرون الاولی (گذری ہوئی جماعتیں۔ زمانہ) بصائر (آنکھیں کھولنے والی باتیں) ‘ الشھدین ( دیکھنے والے) انشا نا ( ہم نے اٹھایا۔ ہم نے پیدا کیا) تطاول (طویل ہوگئی) العمر (مدت) ثاوی (رہنے والے) قدمت ایدی (آگے بھیجا۔ دونوں ہاتھوں کے آگے) ‘ سحران ( دو جادو) ‘ تظھرا (ایک دوسرے کے موافق) ‘ اھدی (زیادہ ہدایت) ‘ لم یستجیبوا (جواب نہ دیا) ‘ اھواء (ھوائ) خواہشیں۔ تمنائیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 43 تا 50 : سورۃ القصص کی گذشتہ آیات اور قرآن کی متعدد سورتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو کسی جگہ تفصیل سے اور کہیں مختصر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم ﷺ کے حالات زندگی میں بہت زیادہ مناسبت اور مطابقت پائی جاتی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا دین پہنچانے میں شدید ترین مشکلات کے باوجود بھر پور کامیابیاں عطا کی گئیں اسی طرح نبی کریم ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کو حق و صداقت کی راہوں میں فقرو فاقہ ‘ تنگ دستی اور ظلم و زیادتی کا سامنا ہے لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب ان کو دنیا اور آخرت کی ہر طرح کی کامیابیاں نصیب ہوں گی۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو چند برسوں میں ہر طرح کی عزت و سربلندی اور خوش حالی عطا کی گئی اور آپ کے دشمنوں کو ذلت اور رسوائی سے دو چار ہونا پڑا۔ سورۃ القصص کی آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو تفصیل سے بیان کرنے کے بعد فرما یا جارہا ہے کہ قوم نوح ‘ قوم ہود ‘ قوم صالح ‘ اور قوم لوط کو ان کی نافرمانیوں کی شدید ترین سزائیں دینے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی کتاب دی گئی جو ان کی قوم کے لئے عبرت و نصیحت ‘ ہدایت اور رحمت کا ذریعہ تھی تاکہ وہ اپنے بھولے ہوئے سبق کو یادررکھ سکیں۔ اور اب اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر قرآن کریم جیسی عظیم کتاب کو نازل کیا ہے جو ساری دنیا کی ہدایت کے لئے ایک روشن کتاب ہے جس کی سچائی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ گذشتہ قوموں کے وہ واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ حالانکہ آپ وہاں موجود نہ تھے۔ آپ کے پاس ان علوم کا ذریعہ صرف اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی وحی ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ فرمایا کہ جب کوہ طور کے مغربی کنارے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت کی شکل میں احکامات دیئے جارہے تھے یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے مدین کی طرف تشریف لے گئے تھے اور وہاں ان کو بہت سے واقعات پیش آئے اور جب ان کو وادی مقدس میں اللہ نے پکارا اور ان کے سر پر تاج نبوت و رسالت رکھ کر معجزات عطا کئے۔ فرمایا کہ آپ ان میں سے کسی جگہ بھی موجود نہ تھے بلکہ صرف اللہ کی رحمت اور وحی تھی جس کے ذریعہ آپ بیان کررہے ہیں جس کی بنیاد یہ ہے کہ آپ ان کو اللہ کے خوف سے ڈرائیں جو اپنے انجام سے بیخبر ہیں ۔ فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسولوں کا یہ سلسلہ ابتدائے کائنات سے رکھا ہوا ہے تاکہ یہ لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ ہمارے پاس تو کوئی بتانے والا رسول آیا ہی نہیں۔ اگر ہمیں راہ ہدایت دکھائی جاتی تو ہم ضرور حق و صداقت کے راستیکو اختیار کرلیتے۔ فرمایا کہ اب ہماری طرف سے یہ آخری رسول اور آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لاچکے ہیں ان پر ایمان لانا نجات کی بنیاد ہے ۔ اگر اللہ کے ان آخری نبی کو نہ مانا گیا تو پھر قیامت تک انہیں راہ ہدایت نصیب نہ ہوگی۔ فرمایا کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ قرآن کریم پر ایمان لے آتے۔ اس کے برخلاف انہوں نے وہی حرکتیں اور غلط سلط باتیں شروع کردیں جو پہلے لوگوں نے کرکے اپنی آخرت تباہ کرلی تھی۔ فرمایا کہ جب ہماری طرف سے یہ سچائی پہنچ چکی ہے تو اب کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ ! آپ پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ایک دم سے کتاب نازل کیوں نہ کی گئی ؟ اللہ تعالیٰ نے سوال کیا ہے کہ اگر قرآن کریم بھی ایک ساتھ نازل کردیا جاتا تو کیا یہ اسکو مانتے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جب توریت کو نازل کیا گیا تھا تو ان لوگوں نے اس پر ایمان لانے سے انکار کردیا تھا۔ بعض کہتے کہ قرآن ہو یا توریت یہ دونوں (نعوذ باللہ) جادو (کی کتابیں) ہیں جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں ۔ کبھی کہتے کہ ہم تو کسی کو بھی ماننے والے نہیں ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے صاف صاف کہہ دیجئے کہ اللہ نے اس قرآن کو ہدایت و رہنمائی کے لئے بھیجا ہے۔ اگر تمہارے اختیار میں ہے تو کوئی دوسری کتاب لے آئو جو ان دونوں سے زیادہ بہتر ہو۔ اگر تم سچے ہو تو ایسی کتاب لے آئو میں بھی اس کی پیروی کروں گا۔ اللہ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کی باتوں کو سن کر رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ اگر یہ لوگ اس چیلنج کا جواب نہیں دیتے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ اسکا جواب دے بھی نہ سکیں گے تو آپ یہ جان لیجئے کہ یہ لوگ صرف اپنی خواہشات کے غلام ہیں جن کی یہ پیروی کررہے ہیں۔ یہ وہ بد نصیب اور گمراہ لوگ ہیں جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ بھی ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
Top