Bayan-ul-Quran - Al-Muminoon : 94
رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
رَبِّ : اے میرے رب فَلَا تَجْعَلْنِيْ : پس تو مجھے نہ کرنا فِي : میں الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگ
تو پروردگار ! مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا
آیت 94 رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ” جس عذاب کی وعیدیں ان لوگوں کو دی جا رہی ہیں اگر وہ میری نگاہوں کے سامنے ان پر آگیا تو اے میرے پروردگار ! مجھے اس سے اپنی پناہ میں رکھنا۔ گویا ہر شخص کو اللہ کے ایسے عذاب سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ اس ضمن میں سورة الانفال کی اس آیت کا مضمون لرزا دینے والا ہے : وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃًج وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ”اور ڈرو اس عذاب سے کہ وہ جب آئے گا تو تم میں سے صرف گنہگاروں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا ‘ اور جان لو کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے“۔ پاکستان کے خصوصی حالات کے پیش نظر ہم سب کو ایسی تنبیہات کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند رہنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ چناچہ یہاں پر شریعت اسلامی کا عملی نفاذ ہم سب کیّ ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے جو مہلت عمل ہمیں دے رکھی ہے اسے غنیمت سمجھتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک کو اس سرزمین پر اقامت دین کی کوشش کے لیے کمر ہمت باندھ لینی چاہیے۔ اس فرض کی ادائیگی سے غفلت کی پاداش میں عذاب الٰہی کا ایک کوڑا ہم پر 1971 ء میں پڑچکا ہے۔ اب اس سے پہلے کہ ہماری مہلت عمل ختم ہوجائے اور ہم دوسرے کوڑے کی زد میں آجائیں ہمیں اپنے تن من اور دھن کو قربان کردینے کے جذبے کے ساتھ اس میدان میں نکلنا ہوگا۔ ہمارے لیے اللہ کی پکڑ سے بچنے اور دنیا و آخرت میں سرخرو ہونے کا یہی ایک راستہ ہے۔
Top