Madarik-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 94
رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
رَبِّ : اے میرے رب فَلَا تَجْعَلْنِيْ : پس تو مجھے نہ کرنا فِي : میں الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگ
تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو
94: رَبِّ فَلاَ تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنََ (تو اے میرے رب مجھے ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کرنا) یعنی مجھے ان کا ہمرا ہی نہ بنانا اور ان کو دیئے جانے والا عذاب مجھے نہ دینا۔ قول حسن : اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع دی ہے کہ آپ کی امت پر ناراضی کی سزا واقع ہوگی مگر یہ اطلاع نہیں دی کہ کب وہ عذاب اترے گا۔ پس اپنے پیغمبر ﷺ کو یہ دعا کرنے کا حکم فرمایا۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ نبی معصوم ﷺ نے اپنے رب سے سوال کیا جس کے متعلق آپ کو معلوم ہوا کہ عنقریب وہ کرنے والے ہیں اور اس سے پناہ طلب کر رہے ہوں جس کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے یہ بطور اظہار عبودیت کے ہو۔ اور بطور تواضع ہو چناچہ آپ ﷺ کا استغفار ایک ایک مجلس میں ستر ستر مرتبہ وہ اسی بناء پر تھا۔ نحو : فاءؔ یہ جوابِ شرط میں لائی گئی ہے۔ اور ربّ والا جملہ معترضہ ہے جو جزاء و شرط کے درمیان آیا ہے۔
Top