Tafseer-e-Usmani - Al-Muminoon : 94
رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
رَبِّ : اے میرے رب فَلَا تَجْعَلْنِيْ : پس تو مجھے نہ کرنا فِي : میں الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگ
تو اے رب مجھ کو نہ کریو ان گناہ گار لوگوں میں8
8 یعنی حق تعالیٰ کی جناب میں ایسی گستاخی کی جاتی ہے تو یقینا کوئی سخت آفت آکر رہے گی۔ اس لیے ہر مومن کو ہدایت ہوئی کہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر یہ دعاء مانگے کہ جب ظالموں پر عذاب آئے تو الٰہی مجھ کو اس کے ذیل میں شامل نہ کرنا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا " وَاِذَا اَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَۃً فَا قْبِضْنِیْ غَیْرَ مَفْتُونٍ " کا مطلب یہ ہے کہ خداوندا ہم کو ایمان و احسان کی راہ پر مستقیم رکھ۔ کوئی ایسی تقصیر نہ ہو کہ العیاذ باللہ تیرے عذاب کی لپیٹ میں آجائیں۔ جیسے دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ (وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّةً ) 8 ۔ الانفال :25) یہاں حضور ﷺ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا ہے اور یہ قرآن کریم کی عام عادت ہے۔
Top