Dure-Mansoor - Ash-Shura : 5
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ : قریب ہے آسمان يَتَفَطَّرْنَ : کہ پھٹ پڑیں مِنْ : سے فَوْقِهِنَّ : اپنے اوپر (سے) وَالْمَلٰٓئِكَةُ : اور فرشتے يُسَبِّحُوْنَ : وہ تسبیح کررہے ہیں بِحَمْدِ : ساتھ حمد کے رَبِّهِمْ : اپنے رب کی وَيَسْتَغْفِرُوْنَ : اور وہ بخشش مانگتے ہیں لِمَنْ فِي الْاَرْضِ : واسطے ان کے جو زمین میں ہیں اَلَآ : خبردار اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ : وہ غفور رحیم ہے
کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت طلب کرتے ہیں خبردار اللہ ہی مغفرت کرنے والا ہے
1:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم اس آیت کو یوں پڑھتے ہیں (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ (کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں ) ۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ سے مراد ہے (آیت ) ” من فوقھن “ اور خفیف نے اس کو تاء مشدد کے ساتھ پڑھا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ (یعنی کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں) سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کی وجہ سے پھٹ جائیں گے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابوالشیخ (رح) والحاکم (رح) (وصححۃ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ یعنی بوجھ کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں گے۔ 5:۔ عبد الرزاق عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویستغفرون لمن فی الارض “ یعنی فرشتے ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ 6:۔ ابوعبید وابن المنذر (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کے ساتھی کہتے تھے کہ فرشتے ابن الکواء سے بہتر جو اپنے رب کی حمد بیان کرتے ہیں اور زمین میں رہنے والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں جبکہ ابن الکواء ان پر گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر ہیں۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وتنذر یوم الجمع “ اور ان کو ڈرائیں جمع ہونے کے دن یعنی قیامت کا دن سے۔
Top