Tafseer-al-Kitaab - Ash-Shura : 5
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ : قریب ہے آسمان يَتَفَطَّرْنَ : کہ پھٹ پڑیں مِنْ : سے فَوْقِهِنَّ : اپنے اوپر (سے) وَالْمَلٰٓئِكَةُ : اور فرشتے يُسَبِّحُوْنَ : وہ تسبیح کررہے ہیں بِحَمْدِ : ساتھ حمد کے رَبِّهِمْ : اپنے رب کی وَيَسْتَغْفِرُوْنَ : اور وہ بخشش مانگتے ہیں لِمَنْ فِي الْاَرْضِ : واسطے ان کے جو زمین میں ہیں اَلَآ : خبردار اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ : وہ غفور رحیم ہے
قریب ہے کہ آسمان (مارے اس کی ہیبت کے) اپنے اوپر کی طرف سے پھٹ پڑیں۔ اور فرشتے (ہیں کہ) اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح (وتقدیس) میں لگے ہوئے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔ یاد رکھو، اللہ ہی بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔
[1] اہل زمین میں مومن اور کافر دونوں داخل ہیں۔ مومنوں کے لئے استغفار یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں اور خطاؤں کو نظرانداز کرے اور کافروں کے لئے استغفار یہ کہ اللہ ان کے دل میں توفیق ایمان ڈال دے۔
Top