Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 5
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ : قریب ہے آسمان يَتَفَطَّرْنَ : کہ پھٹ پڑیں مِنْ : سے فَوْقِهِنَّ : اپنے اوپر (سے) وَالْمَلٰٓئِكَةُ : اور فرشتے يُسَبِّحُوْنَ : وہ تسبیح کررہے ہیں بِحَمْدِ : ساتھ حمد کے رَبِّهِمْ : اپنے رب کی وَيَسْتَغْفِرُوْنَ : اور وہ بخشش مانگتے ہیں لِمَنْ فِي الْاَرْضِ : واسطے ان کے جو زمین میں ہیں اَلَآ : خبردار اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ : وہ غفور رحیم ہے
قریب ہے کہ پھوٹ پڑیں4 آسمان اوپر سے   اور فرشتے پاکی بولتے ہیں خوبیاں اپنے رب کی اور گناہ بخشواتے ہیں زمین والوں کے سنتا ہے وہی اللہ معاف کرنے والا مہربان
4:۔ ” تکاد السموات۔ الایۃ “ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اور ہیبت و جلال کا بیان ہے۔ قریب ہے کہ اللہ کے خوف اور اس کی ہیبت و خشیت سے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں ای یتشققن من عظمۃ اللہ وجلالہ (قرطبی ج 16 ص 4) ۔ اس کی عظمت شان کا یہ عالم ہے کہ فرشتے بھی ہر قسم کے شرک سے اس کی تنزیہ و تقدیس میں مصروف ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر حمد و ثنا کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے کہ ہر نعمت اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے اور وہ سب کا پروردگار ہے۔ ” بحمد ربہم “ میں باء برائے تلبس ہے (روح) ۔ اللہ کے فرشتے ایک طرف تو اللہ کی تسبیح وتحمید کر رہے ہیں اور دوسری طرف ان لوگوں کے لیے استغفار بھی کرتے ہیں جنہوں نے شرک سے توبہ کی اور اللہ کی توحید کا راستہ (صراط مستقیم) اختیار کیا ، “ من فی الارض “ سے مومنین مراد ہیں جیسا کہ سورة مومن (رکوع 1) میں گذر چکا ہے۔ ” فاغفر للذین تابوا واتبعوا سبیلک “ (الایات) ۔
Top