Tafseer-Ibne-Abbas - Ash-Shura : 5
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ : قریب ہے آسمان يَتَفَطَّرْنَ : کہ پھٹ پڑیں مِنْ : سے فَوْقِهِنَّ : اپنے اوپر (سے) وَالْمَلٰٓئِكَةُ : اور فرشتے يُسَبِّحُوْنَ : وہ تسبیح کررہے ہیں بِحَمْدِ : ساتھ حمد کے رَبِّهِمْ : اپنے رب کی وَيَسْتَغْفِرُوْنَ : اور وہ بخشش مانگتے ہیں لِمَنْ فِي الْاَرْضِ : واسطے ان کے جو زمین میں ہیں اَلَآ : خبردار اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ : وہ غفور رحیم ہے
قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
کچھ بعید نہیں کہ آسمان اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے یا یہ کہ یہودیوں کی باتوں سے ایک دوسرے کے اوپر سے پھٹ پڑیں اور آسمانوں میں فرشتے اپنے رب کی تسبیح و تمہید کرتے رہتے ہیں اور جو زمین پر بااخلاص مومن ہیں ان کے لیے دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں اچھی طرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور اس حالت پر مرنے والے پر رحمت کرنے والا ہے۔
Top