Dure-Mansoor - Ash-Shura : 6
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ : قریب ہے آسمان يَتَفَطَّرْنَ : کہ پھٹ پڑیں مِنْ : سے فَوْقِهِنَّ : اپنے اوپر (سے) وَالْمَلٰٓئِكَةُ : اور فرشتے يُسَبِّحُوْنَ : وہ تسبیح کررہے ہیں بِحَمْدِ : ساتھ حمد کے رَبِّهِمْ : اپنے رب کی وَيَسْتَغْفِرُوْنَ : اور وہ بخشش مانگتے ہیں لِمَنْ فِي الْاَرْضِ : واسطے ان کے جو زمین میں ہیں اَلَآ : خبردار اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ : وہ غفور رحیم ہے
قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
(42:5) تکاد السموت یتفطرون من فوقھن : تکاد افعال مقارب میں سے ہے جن کا عمل افعال ناقصہ کی مانند ہے کود (باب فتح) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے۔ قریب ہے۔ یتفطرون مضارع جمع مؤنث غائب۔ تفطر (تفعیل) مصدر سے۔ پھٹ جائیں۔ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ الفطر (باب نصر و ضرب) کے اصل معنی کسی چیز کو طول میں (پہلی مرتبہ) پھاڑنے کے ہیں۔ مختلف ابواب میں مستعمل ہے۔ مثلا افطر ھو فطورا بمعنی روزہ افطار کرنا۔ فطور بمعنی خلل یا شگاف جیسے ہل تری من فطور (37:3) بھلا تجھ کو کوئی شگاف نظر آتا ہے۔ انفطار (انفعال) پھٹ جانا۔ قرآن مجید میں ہے السماء منفطر بہ (73:11) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ فطرت العجین۔ آٹا گوندھ کر فورا روٹی پکانا۔ اسی سے فطرۃ ہے جس کے معنی تخلیق کے ہیں اور الفاطر تخلیق کرنے والا۔ من فوقھن من حرف جار، فوقھن مضاف مضاف الیہ۔ ان کے اوپر سے ھن ضمیر جمع مؤنث۔ السموت کی طرف راجع ہے یعنی ان کے اوپر سے (نیچے تک) ۔ ای یبتدأ الانفطار من جھتھن الفوقانیۃ۔ یعنی ان کا پھٹنا ان کی اوپر کی طرف سے شروع ہو۔ تکاد فعل مقاربہ۔ السموت مبتداء یتفطرن خبر من فوقھن متعلق خبر۔ فائدہ : آسمانوں کے پھٹنے کی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں :۔ (1) اللہ کی عظمت اور بزرگی کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں۔ (2) مشرکین جو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد قرار دیتے اور کہتے ہیں اتخذاللّٰہ ولدا ان کے اس قول سے آسمان پھٹ پڑیں تو بعید نہیں۔ سورة مریم کی آیت لقد جئتم شیئا ادا : تکاد السموت یتفطرن منہ (19:90) اس مطلب پر دلالت کر رہی ہے۔ (ترجمہ آیت :۔ قریب ہے کہ اس افتراء سے آسمان پھٹ پڑیں) (3) کثرت ملائکہ سے اگر آسمان پھٹ پڑیں تو بعید نہیں ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ آسمان چرچرایا اور یہ چرچرانا اس کے لئے بےجا نہیں ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میں محمد ﷺ کی جان ہے آسمان میں بالشت بھر بھی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں سجدہ کرنے والے کسی فرشتہ کی پیشانی سجدہ میں نہ ہو جو اللہ کی تسبیح و تحمید میں مشغول رہتا ہے۔ والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض۔ دونوں جملے حالیہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب کہ بنی نوع انسان زمین پر خدائے ذوالجلال کی شان میں ایسے کلمات کہتا ہے اور ایسے اعمال کا مرتکب ہوتا ہے کہ قریب ہے کہ اس کی شامت میں آسمان پھٹ پڑیں فرشتے اپنے رب تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت اور اس کے انعام و اکرام کی بےانتہاء عطائگی پر اس کی حمد وثناء میں مشغول رہتے ہیں اور زمین پر بسنے والوں کے لئے دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں (اس دعا میں مومن و کافر سب شامل ہیں مؤمنوں کے حق میں استغفار یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں اور خطاؤں کو نظر انداز کر دے اور کافروں کے حق میں استغفار یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں توفیق ایمان ڈال دے۔ اما فی خق الکفار فبواسطۃ طلب الایمان لہم واما فی حق المؤمنین فبالتجاوز عن سیئاتھم (تفسیر کبیر) الا۔ یاد رکھو۔ آگاہ رہو۔ ھو الغفور الرحیم : ھو ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع اللہ ہے اسے تخصیص اور تائید کے لئے لایا گیا ہے یعنی صرف وہی غفور اور رحیم ہے۔
Top