Asrar-ut-Tanzil - Al-Mulk : 20
فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ
فَشٰرِبُوْنَ : پھر پینے والے ہو شُرْبَ الْهِيْمِ : پینا پیاسے اونٹ کی طرح کا
پھر پینا بھی پیاسے اونٹوں کی طرح ہوگا
10۔ ابن عدی والشیرازی فتح الالقاب والحاکم وصححہ وابن مردویہ والخطیب نے تالی التلخیص میں اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة واقعہ میں یہ آیت آیت فشربون شرب الہیم پڑھی (وہ پئیں گے پیاسے اونٹوں کی طرح) یعنی انہوں نے شین کی فتح کے ساتھ پڑھا اور یہ شرب سے ہے۔ 11۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس طرح پڑھتے تھے۔ ” شَرب الہیم “ (پیاسے اونٹ کا پینا) ۔ 12۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سیر وایت کیا کہ ” شرب الیہم “ سے مراد ہے پیاسا اونٹ۔ 13۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” فشربون شرب الہیم “ کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے وہ اونٹ جس کو بیماری نے پکڑ لیا ہو۔ اس کو ” ہیم “ کہتے ہیں۔ وہ پانی سے سیراب نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے دوزخ والوں کے کھولتے ہوئے پانی میں سے پینے کو اس پیاسے اونٹ کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں۔ فرمایا ہاں کیا تو نے لبید بن ربیعہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ اجزت الی معار فہا بشعب واطلاح من العبدی ہیم ترجمہ : میں اس کی تلاش و جستجو میں گھاٹی سے آگے گزر گیا اور میرا غلام سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے شدید پیاسا ہوگیا۔ 14۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ آیت فشربون شرب الہیم سے مراد ہے کہ بیماری والا اونٹ پانی کو چوستا رہتا ہے اور سیراب نہیں ہوتا۔ جہنم میں پیاس کی کیفیت 15۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فشربون شرب الہیم سے مراد ہے کہ بیمار اونٹ پانی کو چوستا رہتا ہے اور سیراب نہیں ہوتا۔ 16۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فشربون شرب الہیم سے مراد ہے کہ یہ ہیم اونٹ کی ایک بیماری ہے جو اس میں سرایت کر جاتی ہے۔ تو اس کی وجہ سے وہ سیراب نہیں ہوتا۔ (یعنی اس کی پیاس نہیں بجھتی) ۔ 17۔ سفیان بن عیینہ نے اپنی جامع میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فشربون شرب الہیم سے مراد ہے ” ہیام الارض “ یعنی ریت 18۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا ” ہیم “ سے مراد ہے پیاسا اونٹ 19۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت شرب الہیم سے مراد ہے پیاسا اونٹ 20۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” شرب الہیم “ میں ہیم ایک ایسی بیماری ہے جو اونٹ وکو لگ جاتی ہے اور جب یہ بیماری کسی کو لگ جائے تو وہ سیراب نہیں ہوتا (یعنی اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی) 21 عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” شرب الہیم “ کا شین کے رفع کے ساتھ پڑھا۔
Top