Siraj-ul-Bayan - Al-Mulk : 20
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
سو کیا جو شخص منہ کے بل گر کر اوندھا چل رہا ہے وہ شخص زیادہ ہدایت پر ہے یا وہ شخص جو سیدھے راستے پر چل رہا ہو
15۔ عبد بن حمید وعبد الرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت افمن یمشی مکبا علی وجہہ سے مراد ہے وہ کافر جو اللہ کی نافرمانی کے عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن منہ کے بل چلائیں گے۔ آیت امن یمشی سویا علی صراط مستقیم سے مراد ہے وہ مومن جو اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی اطاعت پر اٹھائیں گے۔ آیت فلما رأوہ یعنی جب اللہ کے عذاب کو دیکھیں گے آیت زلفۃ سیئت وجوہ الذین کفروا۔ قریب سے تو ان کی صورتیں بگڑ جائیں گے جو کافر ہیں یعنی ان کی صورتیں بگڑ جائیں گی جب وہ اللہ کے عذاب کو اور اس کی جانب سے ذلت کو دیکھیں گے۔
Top