Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 49
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ
لِلّٰهِ : اللہ ہی کے لیے ہے مُلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَخْلُقُ : وہ پیدا کرتا ہے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے يَهَبُ : عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے اِنَاثًا : لڑکیاں وَّيَهَبُ : اور عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے الذُّكُوْرَ : لڑکے
آسمانوں اور زمین کی حکومت اللہ ہی کے لیے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے (سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہے) جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی مالک الملک ہی کے لیے سزاوار ہے 49 ؎ حقیقت اپنی جگہ حقیقت ہوتی ہے وہ کسی کے ماننے کی محتاج نہیں ہے۔ قرآن کریم نے بار بار یہ نظریہ و عقیدہ انسانوں کو دیا ہے کہ جو کچھ آسمانوں ، زمین اور ان دونوں کے مابین ہے اس کی اصل ملکیت اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی ہے لیکن جو لوگ عارضی طور پر اس زمین کے کچھ حصہ کے مالک قرار دیئے گئے ہیں وہ اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہیں اس لیے اس زمین میں بڑے بڑے بادشاہ ، جبار اور سردار پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنی بادشاہی ، اپنی جباری اور سرداری کی ڈینگیں ماریں لیکن آخر ان کی یہ ڈینگیں کب تک چلتی رہیں ؟ ان کے اس طرح آنے جانے نے بھی لوگوں پر ثابت کردیا کہ کوئی شخص ان آسمانوں اور زمین کا اصل مالک نہیں ہے اور نہ ہی ان کے کسی حصہ کا اصل مالک ہے بلکہ مالک ہر شئے کا اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ومالک ہے ، جس کی ملکیت آج تک نہ بدلی اور نہ ہی اس کے بدلنے کا کوئی امکان ہے۔ اس نے جو چاہا پیدا کردیا اور جو چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے اور جو چاہے گا پیدا کرتا رہے گا انسانوں کو جن چیزوں پر ناز ہے یہ سب کچھ بشمول انسانوں کے اس اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی تخلیق ہے اور وہی ہے کہ جس کو چاہتا ہے یہاں سے لے جاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے لے آتا ہے اور اس لانے اور لے جانے کے بارے میں بھی وہی اور صرف وہی مختار کل ہے اور اس کی قدرت کی یہ نشانی ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق لڑکے عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے لڑکیاں اور جس کو چاہتا ہے دونوں ذکور و اناث ملا جلا کردیتا ہے اور اس کے قبضہء قدرت میں ہے کہ جس کو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق بانجھ کردیتا ہے کہ نہ لڑکی عطا کرتا ہے اور نہ لڑکا اور اس طرح کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں کہ جو اس کی چاہت ہو وہی اس کو ملے اور جو اس کی چاہت نہہو وہ اس کو نہ ملے۔ غور کیجئے کہ زمانہ ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گیا لیکن جو اعلان قرآن کریم نے کیا اس میں کوئی تبدیلی آئی ؟ تجربات انسان کرتا آیا ہے ، کر رہا ہے اور کرتا رہے گا جو چیزیں تجربات سے حاصل ہو سکتی ہیں ہو رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی لیکنجن چیزوں میں انسان تجربہ نہیں کرسکتا قرآن کریم نے ان کو تحدی سے بیان کردیا ہے اور کہہ دیا ہے کہ یہ بات کسی بھی انسان کے اختیار میں نہیں دی گئی ان کے متعلق آج تک کوئی تجربہ کامیاب نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی ہوگا۔ حمل رہ گیا یا نہیں یہ انسان معلوم کرسکتا تھا ، حمل رہ جانے کے بعد انسان معلوم کرسکتا ہے کہ اس بار جو حمل رہا اس میں مذکر (Male) آئے گا مونث (Female) ؟ قرآن کریم نے نہیں فرمایا کہ یہ باتیں کوئی معلوم نہیں کرسکتا لیکن یہ نہیں معلوم کیا جاسکتا کہ ” I “ سے صرف لڑکے ہی پیدا ہوں گے کوئی لڑکی نہیں پیدا ہوگی یا یہ کہ لڑکیاں ہی یدا ہوں گی کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوگا یا دونوں طرح کی اولادیں ہوں گی اور اتنی ہوں گی ان میں اتنے لڑکے ہوں گے اور اتنی لڑکیاں یا یہ کہ اس کے ہاں کچھ بھی نہیں ہوگا یا دونوں طرح کی اولادیں ہوں گی اور اتنی ہوں گی ان میں اتنے لڑکے ہوں گے اور اتنی لڑکیاں یا یہ کہ اس کے ہاں کچھ بھی پیدا نہیں ہوگا۔ یہ پیدا ہونے والا لڑکا یا لڑکی اتنی مدت زندہ رہ سکیں گے اس سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے اور فلاں مرے گا تو کس جگہ اور کس سرزمین میں مرے گا اس نوزائیدہ کو کیا کیا حالات زندگی سے گزرنا ہوگا اور یہ اور اس طرح کی بیسیوں سے بھی زیادہ سوالات ہیں جن کا جواب نہ تو انسان دے سکا اور نہ ہی کبھی دے سکے گا پھر بھی انسان اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کرے تو کرتا رہے وہ یقینا اپنے انجام کو پہنچ کر رہے گا اور اس سے اس کی بازپرس ہوگی اور اس کے اعمال کے نتائج سے اس کو دوچار ہونا پڑے گا اور یہ بھی کہ اس کے برے اعمال کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کے اچھے اعمال کا برا نتیجہ کبھی اس کو مل سکتا ہے۔ خیال رہے کہ جو چیزیں انسان کے علم میں ہیں دی گئیں وہ کسی انسان کے علم میں بھی نہیں دی جاسکتی تھیں اور نہ ہی کبھی دی جائیں گی۔ اس لیے جو لوگ ایسی باتوں کو نبیوں ، ولیوں ، بزرگوں ، جنوں ، فرشتوں وغیرہ کے ذمہ لگا کر یہ کہتے ہیں کہ فلاں جانتا ہے یا اس کو اس کا علم دیا گیا ہے انہی لوگوں کو قرآن کریم کی زبان میں مشرک کہا گیا ہے۔ گویا ان چیزوں کے جان لینے کے بارے میں کسی انسان بلکہ کسی مخلوق کی طرف بھی نسب کرنا درست نہیں ہے اور نہ انسانی دماغ ان سوالوں کے جواب کا متحمل ہے خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو۔
Top