Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 51
اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ
اَوْ يُزَوِّجُهُمْ : یا ملا جلا کردیتا ہے ان کو ذُكْرَانًا : لڑکے وَّاِنَاثًا : اور لڑکیوں (کی شکل میں) وَيَجْعَلُ : ور بنا دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے عَقِيْمًا : بانجھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ : علم والا ہے، قدرت والا ہے
یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے وہ سب کچھ جانتا ہے ہر بات پر قادر ہے
جس کو چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے 50 ؎ اللہ تعالیٰ کا چاہنا کیا ہے ؟ وہی جو اس نے کسی چیز کے لیے قانون بنا دیا ہے وہی اس کی چاہت ہے کیونکہ اس کا مخلوق میں سے نہ تو کوئی مشیر ہے اور نہ ہی اس میں کوئی اس کا شریک ہے لہٰذا اس نے جو چاہا اس کا اپنی مرضی و رضا سے ایک ضابطہ مقرر کردیا اور پھر اسی ضابطہ کا اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ اعلان کروا دیا اس کو کہیں سنت اللہ کا نام دیا کہیں وعدہ کا لفظ استعمال فرمایا اور کسی جگہ اسی سنت اللہ اور وعدہ کے لفظ کو { مایشاء } کے الفاظ سے تعبیر فرمایا اور پھر سنت اللہ کی وضاحت یوں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی سنت کبھی بدلا نہیں کرتی اور یہی بات وعدہ کے متعلق بیان فرمائی کہ اللہ کا وعدہ کبھی خطا نہیں ہوتا نہ وہ خلاف کرتا ہے اور نہ وعدہ خلافی ہونے دیتا ہے اور یہی بات { من یشاء ماشاء اللہ۔ ان شاء اللہ۔ مایشاء } کے الفاظ سے ظاہر کی گئی لیکن بدقسمتی سے ہمارے مذہبی راہنماؤں نے اس کا مفہوم بالکل اس کے برعکس سمجھا۔ ان کا واسطہ ان دنیا کے بادشاہوں ، دولت مندوں اور سرداروں سے جب پڑا تو انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ آج ایک بات کرتے ہیں اور کل اس کے خلاف کہہ دیتے ہیں اور کوئی ان کو کچھ نہیں کہتا یا کچھ نہیں کہہ سکتا جو انہوں نے کل کرنے کو کہا تھا آج نہیں کر رہے اور جو نہ کرنے کا اعلان کیا تھا آج وہ سب کچھ کر رہے ہیں تو ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے وہ بادشاہ ، حکمران اور دولت مند ہیں اس لیے جو انہوں نے پہلے کیا تھا وہ بھی ان کی مرضی تھی ، جو بعد میں کیا ہے وہ بھی ان ہی کی مرضی ہے اور کوئی ان کو پوچھ نہیں سکتا اور انہوں نے اس تجربہ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے پسند کرلیا کہ اللہ نے ایک بات فرمائی اور پھر دوسرے وقت کوئی اور بات فرما دی جو بالکل اس کے برعکس تھی تو اس سے کون پوچھ سکتا ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ یہ نہ سمجھے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کا خلاف کرنا اور اپنی کہی ہوئی بات کے برعکس کچھ کہنا اپنی ذات کے لیے منع کیا ہے تو وہ کبھی ایسا نہیں کرتا اگر کہیں ایسا نظر آیا ہے تو یہ ان کی سمجھ کی غلطی ہے اور انہوں نے اپنی غلطی کو اللہ کے ذمہ لگا دیا جو غلطی پر مزید غلطی ہے اور { ماشاء } کے الفاظ کا مفہوم انہوں نے صحیح نہیں سمجھا اور جب تک خالق اور مخلوق کا فرق اچھی طرح ذہن نشین نہ کیا جائے اس وقت تک ایسی غلطیاں ہوتے رہنے کا امکان ہے پھر ملائیت نے نسلاً بعد نسل جو سمجھا ہے اس کو پڑھتے پڑھاتے چلے آ رہے ہیں اس لیے یہ نسلاً بعد نسلٍ پڑھا ہوا ان کے ذہنوں میں راسخ ہوچکا ہے جس کا نکالنا اب اتنا آسان بھی نہیں ہے اس لیے اپنی تفہیم کے خلاف وہ سوچنے کے لیے کبھی تیار ہی نہیں ہو سکتے حالانکہ { انہ علیمٌ قدیرٌ} کے الفاظ نے اس کی پوری وضاحت کردی کہ وہ ہر ایک چیز کا صیح علم رکھنے والا اور مکمل اندازہ کرنے والا ہے کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔
Top