Jawahir-ul-Quran - Aal-i-Imraan : 127
لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ
لِيَقْطَعَ : تاکہ کاٹ ڈالے طَرَفًا : گروہ مِّنَ : سے الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو كَفَرُوْٓا : انہوں نے کفر کیا اَوْ : یا يَكْبِتَھُمْ : انہیں ذلیل کرے فَيَنْقَلِبُوْا : تو وہ لوٹ جائیں خَآئِبِيْنَ : نامراد
تاکہ ہلاک کرے بعضے کافروں کو یا ان کو ذلیل کرے تو پھر جاویں محروم ہو کر194
194 لِیَقْطَعَ میں لام نَصَرَکُمْ سے متعلق ہے۔ قطع کے معنی قتل کے ہیں اور طرف جماعت گروہ کے معنی میں ہے لیھلک طائفۃ منھم بالقتل والاسرالخ (مدارک ص 141 ج 1) یعنی جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تمہاری غیب سے امداد اس لیے فرمائی تاکہ کافروں کی ایک جماعت تمہارے ہاتھوں ماری جائے اور وہ ذلیل و خوار ہوجائیں اور نامراد ہو کر گھروں کو لوٹیں اور اس طرح کفر کا زور ٹوٹ جائے۔ اور کافروں کی شان و شوکت اور ان کا رعب ووقار مسلمانوں کے ہاتھوں خاک میں مل جائے چناچہ ایسا ہی ہوا۔ بدر میں کفر وشرک کے ستر لیڈر اور سرغنے مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے۔
Top