Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 32
وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ
وَمِنْ اٰيٰتِهِ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں الْجَوَارِ : کشتیاں فِي الْبَحْرِ : سمندر میں كَالْاَعْلَامِ : پہاڑوں کی طرح
اور ایک اس کی نشانی ہے کہ جہاز چلتے ہیں دریا میں جیسے پہاڑ30
30:۔ ” ومن ایتہ الجوار “ یہ بظاہر تو اللہ کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت کے دلائل ہیں، لیکن اس میں تخویف دنیوی کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ پہاڑوں کی مانند بلند بحری جہاز اور بادبانی کشتیاں جو سمندروں اور دریاؤں میں چلتی ہیں، اللہ کی قدرت کاملہ کی واضح دلیل ہے۔ ” ان یشا یسکن الریح “ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے اور کشتیاں دریا کی سطح پر کھڑی رہیں۔ ہر و شخص جو مصائب پر صابر ہو اور خوشحالی میں شکر گذار ہو، اس کیلئے اس میں اللہ کی قدرت و عظمت کے واضح دلائل ہیں۔ ان المؤمنین لایخلو من ان یکون فی السراء والضراء، فان کان فی الضراء کان من الصابرین وان کان فی السراء کان من الشاکرین (کبیر) ۔” او یوبقہن الخ ‘ یہ یسکن پر معطوف ہے (روح) اور بوجہ جزم واؤ ساقط ہے یا یوبق کا معطوف علیہ محذوف ہے۔ یعصہن یا یر سلہا عاصفۃ (روح) اس طرح یہ علفتہا تبنا و ماء باردا کے قبیل سے ہوگا لیکن یظلن پر معطوف نہیں ہوسکتا۔ ، کیونکہ ہلاکت کا تعلق سکون ریح سے نہیں ہوسکتا۔ ” و یعلم الخ “ یہ معطوف علیہ مقدر پر معطوف ہے۔ ای لینتقم منہم یا لیظھر عظیم قدرتہ (روح) تاکہ وہ مجرموں سے انتقام لے یا اپنی قدرت کاملہ کو ظاہر کرے اور ہماری آیتوں میں جدال کرنے والوں اور توحید میں اختلاف ڈالنے والوں کو یعنی ان باغیوں کو جنہوں نے توحید کے خلاف لکھا ہے اور ان کو جنہوں نے باغیوں کی تحریروں کو پڑھ کر غیر اللہ کو پکارنا شروع کردیا یقین ہوجائے کہ عذاب الٰہی سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ” فما اوتیتم الخ “ تخویف دنیوی کے بعد فرمایا کہ تم اس دنیا کی چند روزہ زندگی پر مغرور نہ رہو یہ آخرت کے مقابلے میں ہیچ ہے آؤ ایمان قبول کرو اللہ کے حکمنامے کو مان لو تاکہ آخرت کے عذاب سے بچ جاؤ۔
Top