Mazhar-ul-Quran - Ash-Shura : 32
وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ
وَمِنْ اٰيٰتِهِ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں الْجَوَارِ : کشتیاں فِي الْبَحْرِ : سمندر میں كَالْاَعْلَامِ : پہاڑوں کی طرح
اور2 اس کی نشانیوں میں سے سمندر میں چلنے والے جہاز ہیں جیسے پہاڑ
(ف 1) ان آیتوں میں منکرین قدرت کے قائل کرنے کے لیے فرمایا یہ پہاڑ کے پہاڑ کشتیاں پانی کو پھوڑ کر جو دریا میں پھرتی ہیں اللہ چاہے تو ہوا کو روک دے جس سے وہ چلتی ہیں تو وہ ایک ہی جگہ کھڑی رہ جائیں، پانی کے اوپر قائم رہیں ، ان کشتیوں میں خدا کی قدرت کی عجیب نشانیاں ہیں اور نہایت عبرت ونصیحت ہر صبر والے کے لیے جو طاعت ومصیبت پر کرتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے اور اگر خدا چاہے تو ان کشتی والوں کی نافرمانی کے سبب اور ان کے برے کاموں کے بدلے دریاؤں میں ان کو ہلاک اور پاش پاش کردے، مگر وہ رحمت کرتا ہے بہت سے گناہ معاف کردیتا ہے جس سے لوگوں کی اکثر بلائیں ایک وقت مقررہ تک ٹل جاتی ہیں خدا یہ باتیں اس لیے بیان کرتا ہے کہ جو رسول و قرآن کی حقیقت میں جھوٹا خرافات جھگڑا نکالتے ہیں وہ خوب جان لیں کہ جب ان کی سزا کا وقت مقرر آجائے گا تو پھر ایسے لوگ بھاگ کرجانے کی کہیں جگہ نہ پائیں گے۔
Top